فریب خوردہ لوگ عام معافی کے اعلان کے بعد قوم کی آغوش میں آجائیں، یمن کی وزارت دفاع

فریب خوردہ لوگ عام معافی کے اعلان کے بعد قوم کی آغوش میں آجائیں، یمن کی وزارت دفاعمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، یمن کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ عام معافی کا فیصلہ اور اعلان قوم کے ساتھ واپس آنے کے لئے ان لوگوں کے لئے آخری موقع ہے کہ جنھوں نے فریب میں آکر یمنی قوم سے دوری اختیار کی ہے۔

عام معافی کے اعلان کی بنیاد پر تمام وہ فوجی و غیر فوجی یمنی شہری جو یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت میں شریک رہے ہیں ان کو قوم کی آغوش میں واپس پلٹ آنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا ہے۔

یمن سے ہی ایک اور خبر یہ ہے کہ یمن کی قومی حکومت کے ترجمان عبدالسلام جابر نے یمن میں عام شہریوں کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنائے جانے پر قانونی اور انسان دوستانہ اداروں کی خاموشی کی شدید مذمت کی ہے۔

انھوں نے یمن کے صوبے الحدیدہ میں دو بسوں پر حملہ کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو اپنے کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے ہفتے کے روز یمن کے صوبے الحدیدہ کے علاقے جبل راس میں دو بسوں پر حملہ کر دیا جس میں انّیس افراد شہید اور تیس دیگر زخمی ہو گئے۔

دریں اثنا یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے چیئرمین نے یمن کی آزادی اور قومی اقتدار اعلی کے تحفظ کے ساتھ ملک میں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے چیئرمین مہدی المشاط نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی آل سعود حکومت اگر یمن پر جارحیت کا سلسلہ روک دیتی ہے تو یمن کی اعلی سیاسی کونسل ملک میں قیام امن و استحکام کے لئے مذاکرات کے لئے آمادہ ہے۔

انھوں نے بعض عرب حکام کے سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اختیار کئے جانے والے توہین آمیز رویے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض عرب حکمراں یمنی قوم اور خود اپنے ملکوں کے عوام پر ظلم کر رہے ہیں جبکہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے مقابلے میں ذلت و رسوائی برداشت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے دو اکتوبر کو امریکی ریاست میسی سیپی میں اپنے ایک بیان میں سعودی حکمرانوں کی اہانت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا شاہی نظام صرف ہماری حمایت پر ٹکا ہوا ہے ورنہ وہ دو ہفتوں میں ختم ہو جائے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے۔

تمام تر جارحیت کا مظاہرہ کرنے کے باوجود سعودی عرب یمن میں اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے اور اسے مسلسل شکست کا سامنا ہے۔

پیغام کا اختتام/