امریکی وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران ہنگامہ

امریکی وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران ہنگامہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مائک پمپیو نے ایران مخالف اتحاد کے نام سے ہوئی ایک نشست میں تقریر شروع ہی کی  تھی کہ متعدد افراد اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ایران کے ساتھ دوستی اور امن کے نعرے درج تھے۔
امریکی وزیر خارجہ کی تقریر پر احتجاج کرنے والے یہ نعرے بھی لگا رہے تھے کہ ایران کے عوام دنیا میں امن کے خواہاں ہیں۔

لوگوں کے احتجاج اور اعتراض کے نتیجے میں امریکی وزیر خارجہ کو اپنی تقریر روکنا پڑی۔

بعدازاں سیکورٹی اہلکاروں نے اعتراض کرنے والوں کو بحث کا موقع دیئے بغیر انتہائی پرتشدد اور ہتک آمیز طریقے سے ہال سے باہر نکال دیا۔

اس واقعے کے حوالے سے جاری ہونے والی ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بلند آواز میں یہ نعرہ لگا رہا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں امن پسندانہ نہیں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آٹھ مئی کو یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ ہونے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے تہران کے خلاف ظالمانہ پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر سات اگست سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔

ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا نیا مرحلہ پانچ اکتوبر سے شروع کیا جائے گا جسکی عالمی سطح پر سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

پیغام کا اختتام/