ایرانی عوام اسلامی جمہوریت کے راستے کو صدیوں تک جاری رکھیں گے، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی

ایرانی عوام اسلامی جمہوریت کے راستے کو صدیوں تک جاری رکھیں گے، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں تیل و گیس اور پٹروکیمیکل کی تیسری بین الاقوامی نمائش کا معائنہ کرنے کے  بعد آئل انڈسٹری کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب اپنی عمر کے چالیس سال مکمل کر رہا ہے اور گیارہ فروری دو ہزار انیس سے پہلے پہلے تیل و گیس اور پٹروکیمیکل کے متعدد منصوبوں پر جاری کام اگر مکمل ہو جاتا ہے تو ایرانی عوام کے لئے بہت ہی خوشی کی بات ہو گی کہ چالیسیویں سالگرہ کے موقع پر اقتصادی میدان میں اتنی شاندار کامیابی حاصل کی ہے-

انہوں نے اسلامی انقلاب کے بدخواہوں کی عداوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے دشمنوں کے لئے یہ بات بہت ہی گراں ہے کہ ایران اپنے اسلامی انقلاب کی چالیسیویں سالگرہ کا جشن منانے جا رہا ہے-

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کے عوام نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اسے وہ صدیوں تک جاری رکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی مرضی اور ارادے سے ہی اسلامی جمہوریہ کا انتخاب کیا ہے اور ہماری نوجوان نسل کا بھی یہی پختہ عزم ہے-

انہوں نے کہا کہ اگر ہم سیکڑوں بار ریفرنڈم کرائیں تو بھی ہر بار ایران کے عوام اٹھانوے فیصد سے زائد ووٹوں سے اسلامیت اور جمہوریت کو ووٹ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوموں کا ارادہ دائمی ہوتا ہے جو تبدیل نہیں ہوتا- صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تیل و گیس و پٹروکیمیکل کی صنعت میں کام کرنے والے صنعتکاروں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی صنعت ایک اسٹرٹیجک صنعت ہے-

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر تیل، ایران اور علاقے کے ملکوں اور اسی طرح صنعتی دنیا کے لئے ایک اسٹریٹجک صنعت ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ آج ایران کی تیل کی کمپنیاں جو کام انجام دے رہی ہیں وہ صرف ایک اقتصادی کام نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ عظیم کام ایرانی عوام کو عزم و حوصلہ اور امید و ولولہ عطا کر رہا ہے-

تہران میں تیل و گیس اور پٹروکیمیکل کی تیسری بین الاقوامی نمائش اتوار کو شروع ہوئی تھی جو آج ختم ہو رہی ہے۔ اس نمائش میں ایران اور دوسرے ملکوں کی چار ہزار کمپنیوں نے شرکت کی ہے-

دنیا کے جن سینتیس ملکوں کی آئل کمپنیاں اس نمائش میں شریک ہیں ان میں جرمنی، فرانس، اٹلی، روس، چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک قابل ذکر ہیں-

پیغام کا اختتام/