اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
شام کے علاقے غوطہ شرقی کی دہشت گردوں کے قبضے سے آزادی کا آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور شامی فوج نے دہشت گردوں کے آخری گڑھ دوما کی جانب پیشقدمی شروع کر دی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۹۸۷
تاریخ اشاعت: 23:22 - April 02, 2018

غوطہ شرقی کی آزادی کے فیصلہ کن مرحلے کا آغازمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق دمشق میں دفاعی اور فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ غوطہ شرقی کے اکتیس شہروں کو دہشت گردوں کے وجود سے مکمل پاک کر دیا گیا جبکہ دوما کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑانے کی کارروائی جاری ہے۔

شامی فوج کی مشترکہ کمانڈ کے مطابق علاقے سے ہزاروں عام شہریوں کے انخلا کو محفوظ بنا دیا گیا ہے جنھیں دہشت گرد انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

شامی فوج کا کہنا ہے کہ دوما کے نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

شامی فوج نے غوطہ شرقی کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے چھبیس فروری سے آپریشن شروع کیا تھا اور اب تک دوما کے علاوہ تمام علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ چوبیس فروری کو شام میں تیس روزہ فائربندی کے نفاذ کے حق میں قرارداد پاس کی تھی اور اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ شام کے محصور عوام تک انسان دوستانہ امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ البتہ سلامتی کونسل میں القاعدہ، داعش اور جبہہ النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔

ادھر روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غوطہ شرقی میں عام زندگی بہت جلد معمول پر لوٹ آئے گی اور علاقے میں امن و امان بحال ہو جائے گا۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ علاقے سے عام شہریوں کے انخلا اور مختلف علاقوں کی آزادی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

غوطہ شرقی، شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک اہم اور اسٹریٹیجک علاقہ ہے جس پر دہشت گردوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور وہاں سے دمشق کے رہائشی علاقوں پر راکٹ حملے کئے جاتے رہے ہیں۔

شام کو سن دو ہزار گیارہ سے دہشت گردی کے بحران کا سامنا ہے اور امریکہ، سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک مختلف دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں جس کا اہم مقصد علاقے میں طاقت کے توازن کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا ہے تاہم انہیں اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔  

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں