اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے خطیب حجت الاسلام و المسلمین سید محسن ابوترابی فرد نے نئے ایرانی سال کے دوران ملکی ترقی اور پیشرفت کے لیے انتھک جہدو جہد اور سخت محنت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امت اور رہبر کے درمیان مضبوط تعلق کے نتیجے میں آج ایران امریکہ اور کفر کے محاذ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۸۷۸
تاریخ اشاعت: 4:36 - March 24, 2018

ایران امریکہ اور کفر کے محاذ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے، تہران کے خطیب جمعہ کی تاکیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام ابوترابی فرد نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے دامن میں جو کچھ ہے وہ امامت اور امت کے درمیان تعلق کی دین ہے اور ملک کی سربلندی اور عزت اسی کے نتیجے میں ہاتھ آئی ہے۔

نئے ایرانی سال کی پہلی نماز جمعہ کے خطبوں میں تہران کے خطیب جمعہ کا کہنا تھا کہ قرآن کریم نے انسانی سماج کو پست اور حیوانی زندگی سے گریز کی سختی کے ساتھ تاکید اور انہیں اچھی حیات کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیات عقلانی، انسانی زندگی کا دوسرا مرحلہ ہے اور قرآن کریم کے مطابق قرآنی تربیت کے مرحلے سے گزرنے والوں کو حیات عقلانی سے بہرہ مند اور ان پر عقل کی حکمرانی ہونا چاہیے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حیات انسانی کا تیسرا مرحلہ حیات الوہی کہلاتا ہے۔ انسان، عقل سے کام لے کر اور وحی الہی کے سامنے سرتسلیم خم کر کے، حیات الوہی اور بندگی کے اعلی مقام پر فائز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی بندگی کے سائے میں انسان، عالم ملکوت میں قدم رکھتا ہے اور یہ حیات انسانی کا اعلی ترین مرتبہ ہے۔

حجت الاسلام  و المسلمین ابوترابی فرد نے کہا کہ مومن اور ایمان و عمل صالح سے آراستہ انسان، پاکیزہ اور مخلصانہ زندگی پا لیتا ہے البتہ اس منزل کے حصول کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے رجب المرجب کے مہینے کے آغاز اور حضرت علی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا وند متعال کا فیصلہ ہے کہ انسانی سماج کو نیک افراد کی نگرانی اور انتظام میں چلایا جائے، اگر ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے زیر سایہ زندگی گزاریں تو ہماری زندگی بہتر ہو جائے گی اور معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہو گا۔

حجت الاسلام  و المسلمین ابوترابی فرد نے یہ بات زور دے کر کہی کہ نئے ایرانی سال کو جو ماہ رجب اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نام گرامی کے ساتھ شروع ہوا ہے ایک نئی جست اور جدو جہد میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انقلاب اسلامی کے پاس جو بھی ہے وہ ولایت اور امت مسلمہ کے درمیان پائے جانے والے بندھن کا نتیجہ ہے اور ہماری عزت و سربلندی، اسی کی مرہون منت ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ آج اسلامی مزاحمتی محاذ، کفر و امریکہ کے محاذ کے مقابلے میں، جو اپنے ناجائز مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، ڈٹا ہوا ہے اور یہ عوام ، امام اور رہبر انقلاب اسلامی کے درمیان پائے جانے والے تعلق کا نتیجہ ہے۔

جحت الاسلام  و المسلمین ابوترابی فرد نے تہران کی مرکزی نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں سیاسی حالات پر روشنی ڈالی اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران کی طاقت، اسلامی اور قرآنی تعلقات پر عملدرآمد کی دین ہے اور ایران نے فلسطین، یمن، شام، لبنان اور عراق وغیرہ کی قوموں کو بھی حوصلہ دیا ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کی سیاسی خود مختاری کو بے انتہا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی علاقائی طاقت نے واشنگٹن کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے حالانکہ ایران کی طاقت دراصل اسلام اور قرآن سے تعلق کی دین ہے اور اسی چیز نے علاقے کی قوموں اور تحریک مزاحمت کو حوصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امت اور رہبر کے درمیان مضبوط تعلق کے نتیجے میں آج ایران، امریکہ اور کفر کے محاذ کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور خطے میں اس کی سازشوں کو یکے بعد دیگرے ناکام بنا رہا ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے خطبے کے ایک اور حصے میں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے نئے ایرانی سال کو ایرانی مصنوعات کی حمایت کا سال قرار دیئے جانے کا ذکر کر تے ہوئے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ ایرانی مصنوعات کو بہترین معیاروں اور کم سے کم سے لاگت پر تیار کریں تاکہ عالمی منڈیوں میں رقابت کے قابل ہو سکیں۔ 

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: