اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے ولیعہد کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ سعودی ولیعہد ایک خام خیال اور وہم کا شکار شخص ہیں جن کی باتوں کی نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اس کا جواب دینا مناسب ہے۔
خبر کا کوڈ: ۷۸۸
تاریخ اشاعت: 22:08 - March 16, 2018

سعودی ولیعہد خام خیالی میں مبتلا: ایرانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بہرام قاسمی نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ سعودی ولیعہد کی سوچ وہم اور خام خیال پر مشتمل ہے اور وہ منفی اور تلخ بیانات کے سوا کچھ نہیں بولتے۔

انہوں نے محمد بن سلمان کے امریکی چینل سی بی ایس کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران مخالف بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولیہد کی باتیں جھوٹ اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اور غیرمنطقی باتیں کرنا اس شخص کا وطیرہ بن چکا ہے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایوں اور دنیا کے ممالک کا احترام کرتا ہے اور ہمیشہ ایک مخصوص طاقتور ملک کے بجائے مضبوط خطے کے لئے سوچتا ہے جہاں امن و سلامتی کا بول بالا ہو۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے دوسرے ممالک کو مذاکرات اور مشاورت کی دعوت بھی دی ہے جس میں خطے کا بعض ضدی اور منفی سوچ رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خیرسگالی، عقلانیت اور منطقی سوچ کے تحت عالم اسلام سمیت خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لئے فکرمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولیعہد کی من گھڑت باتوں سے ان کا جاہلیت کے دور سے تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ سعودی عرب جو گزشتہ تین سال سے یمن پر جاری ظالمانہ جارحیت کے باوجود نہتے اور مظلوم یمنی عوام کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوا ہے، وہ اپنی فوج یا معیشت کی طاقت کی باتیں نہ کرے اور اپنے سے بڑے اور طاقتور ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے بے بنیاد باتیں کرنے سے باز آئے۔

واضح رہے کہ سعودی ولیعہد نے گزشتہ روز امریکی ٹیلی ویژن چینل سی‌ بی‌ اس سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرنے کے ساتھ کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنائے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار بنائے گا۔

بہرام قاسمی نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ سعودی ولیعہد کی سوچ وہم اور خام خیال پر مشتمل ہے اور وہ منفی اور تلخ بیانات کے سوا کچھ نہیں بولتے۔

انہوں نے محمد بن سلمان کے امریکی چینل سی بی ایس کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران مخالف بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولیہد کی باتیں جھوٹ اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں اور غیرمنطقی باتیں کرنا اس شخص کا وطیرہ بن چکا ہے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایوں اور دنیا کے ممالک کا احترام کرتا ہے اور ہمیشہ ایک مخصوص طاقتور ملک کے بجائے مضبوط خطے کے لئے سوچتا ہے جہاں امن و سلامتی کا بول بالا ہو۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے دوسرے ممالک کو مذاکرات اور مشاورت کی دعوت بھی دی ہے جس میں خطے کا بعض ضدی اور منفی سوچ رکھنے والے ممالک بھی شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خیرسگالی، عقلانیت اور منطقی سوچ کے تحت عالم اسلام سمیت خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لئے فکرمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولیعہد کی من گھڑت باتوں سے ان کا جاہلیت کے دور سے تعلق ظاہر ہوتا ہے۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ سعودی عرب جو گزشتہ تین سال سے یمن پر جاری ظالمانہ جارحیت کے باوجود نہتے اور مظلوم یمنی عوام کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوا ہے، وہ اپنی فوج یا معیشت کی طاقت کی باتیں نہ کرے اور اپنے سے بڑے اور طاقتور ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے بے بنیاد باتیں کرنے سے باز آئے۔

واضح رہے کہ سعودی ولیعہد نے گزشتہ روز امریکی ٹیلی ویژن چینل سی‌ بی‌ اس سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرنے کے ساتھ کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنائے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار بنائے گا۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: