اپ ڈیٹ: 21 April 2021 - 00:46
فیس بک کو کافی عرصے سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں کردارادا کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اب اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۷۵۵
تاریخ اشاعت: 0:14 - March 15, 2018

روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں فیس بک کا کردارمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے حقائق جاننے کے لیے کام کرنے والے آزاد مشن کے چیئرمین مرزیوکی دارعثمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ سوشل میڈیا نے میانمار میں نفرت انگیز تقاریر کو پھیلانے میں 'فیصلہ کن' کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا مسلمان گھروں کو چھوڑ کر ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

انہوں نے کہا سوشل میڈیا تصادم، شدت اور اختلاف رائے بڑھانے میں شراکت دار ہوتا ہے اور نفرت انگیز تقاریر اس کا بڑا حصہ ہے۔ جہاں تک میانمار کی صورتحال کا تعلق ہے وہاں فیس بک ہی سوشل میڈیا ہے اور سوشل میڈیا ہی فیس بک ہے۔

فیس بک میانمار میں لوگوں کے لیے خبروں کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جسے وہاں کے شہریوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا۔

اقوام متحدہ کی تفتیش کار یانگ ہی لی کا کہنا تھا کہ فیس بک کو عوامی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ انتہا پسند بدھسٹوں نے اسے روہنگیا مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے خلاف بہت زیادہ تشدد اور نفرت پھیلانے کے لیے اسے استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا مجھے ڈر ہے کہ فیس بک اب ایک عفریت بن چکی ہے، جو اس کا اصل مقصد نہیں تھا۔

فیس بک کے ایک ترجمان کے مطابق نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے حوالے سے اس کے اصول واضح ہیں اور کمپنی ان کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہے۔

گزشتہ سال اگست سے جاری تنازعے کے نتیجے میں ساڑھے 6 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان میانمار کی ریاست راخین سے نقل مکانی کرچکے ہیں، ان میں سے بیشتر افراد نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے قتل عام اور اجتماعی زیادتی کے واقعات کا احوال بیان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اسے نسلی صفائی کی مثال قرار دیا۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں