اپ ڈیٹ: 22 April 2021 - 17:12
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق میانمار کی ریاست راخین میں فوج روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے گئے جرائم کو چھپانے کے لیے دیہات کو مسمار کر کے نئے سرے سے تعمیر کررہی ہے اور یہاں خوفناک شکل میں فوجیوں کو تعینات کررہی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۷۳۵
تاریخ اشاعت: 17:35 - March 14, 2018

میانمارمیں مسلمانوں کا قتل اور ان کے گھروں پر قبضہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق میانمار کی مسلح افواج نے تشددکے واقعات کی وجہ سے گھر بار چھوڑکر جانے والے روہنگیا مسلمانوں کے رہائشی علاقے پرقبضہ کرلیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بحرانی یونٹ کی منتظم تیرانہ حسن نے کہاہے کہ علاقے میں خوفناک شکل میں فوجی تعیناتی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کے ثبوتوں کوختم کردیاہے اور اب روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی جرائم میں ملوث سیکیورٹی فورسزکی طرف سے نئے بیس قائم کیے جارہے ہیں۔

تیرانہ حسن نے کہا کہ اس صورت حال نے روہنگیا مہاجرین کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کو مزید محال کردیاہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو نسل کشی قرار دے رہی ہیں۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں