اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے پچاس سے زائد ملکوں میں انسانی حقوق کے معاملات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۶۸۴
تاریخ اشاعت: 10:41 - March 10, 2018

دنیا کے دسیوں ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعدالحسین نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زید رعدالحسین نے لیبیا، یمن، فلپائن، کانگو، کوسٹا ریکار، میانمار وینیز ویلا اور شام میں انسانی حقوق کے معاملات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے مذکورہ اجلاس میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر موارد میں اس تشویشناک صورتحال کے اصل ذمہ دار سیاستداں ہیں۔

یورپی ممالک بھی انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی تنقید سے محفوظ نہیں رہے اور انہوں نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تارکین وطن کے حوالے سے یورپی یونین کے بہت سے ملکوں کی پالیسیوں پر بھی کڑی نکتہ چینی کی۔

زید رعد الحسین نے اپنی رپورٹ میں شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غوطہ شرقی کا محاصرہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے جہاں چار لاکھ عام شہری محصور ہوکے رہ گئے ہیں۔

غوطہ شرقی شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ہے اور اس پر دہشت گردوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ دہشت گرد گروہ غوطہ شرقی سے روزانہ دمشق کے رہائشی علاقوں پر راکٹوں سے حملے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری مارے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں میانمار میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم آبادیوں کو مسمار کرنے اور مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیے جانے کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ میانمار کے حکام جان بوجھ کے اس علاقے میں انجام پانے والے جرائم اور خاص طور سے انسانیت کے خلاف جرائم کے ثبوت مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ راخین میں مسلمانوں کی نسل کشی اور تطہیر کا سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔قابل ذکر ہے کہ میانمار کے سیکورٹی اہلکاروں اور انتہا پسند بدھسٹوں کی جارحیت کے نتیجے میں چھے ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان جاں بحق اور آٹھ ہزار سے زائد دیگر زخمی جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے ہیں جن میں آٹھ لاکھ سے زائد، بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: