اپ ڈیٹ: 04 August 2021 - 19:45
پاکستان کی سینیٹ میں خالی ہونے والی باون نشستوں پر الیکشن کے بعداب سینیٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان معرکہ تیز ہوگیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۶۱۳
تاریخ اشاعت: 20:29 - March 04, 2018

سینیٹ الیکشن کے بعد چیئرمین کے انتخاب کا معاملہ گرممقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق پاکستانی سینیٹ میں خالی ہونے والی باون نشستوں کے لئے ہفتے کو الیکشن ہوا جس میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون نے سب سے زیادہ پندرہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی پپپلز پارٹی کو بھی غیر متوقع پر طور پر بارہ سیٹیں ملیں جبکہ پی ٹی آئی کو چھے نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔

نتائج آنے کے بعد سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لئے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی معرکہ تیز ہوگیا ہے۔ چیئرمین کے انتخاب کے لئے ترپن ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس ایوان بالا میں چھیالیس ارکان ہیں جبکہ پیپلیز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد چھتیس ہے۔

اس درمیان فاٹا کے آٹھ ، بلوچستان کے چھے ، متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے پانچ اور آزاد ارکان کے ووٹ کسی بھی سیاسی اتحاد کے لئے انتہائی اہم ہوں گے اور وہ چیئرمین بنوانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں