اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا شعبہ جس کی ذمہ داری اس وقت وزیر خارجہ عادل الجبیر پر ہے، خارجہ پالیسی کے اہم ستونوں سے خالی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۵۷۸
تاریخ اشاعت: 8:34 - March 03, 2018

سعودی عرب کے اناڑی کھلاڑی/ مقالہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان ستونوں میں سے ایک کشیدگی کم کرنا اور بھڑکی ہوئی آگ کو بچھانے کی کوشش نیز اپنے ملک کو دوسرے ممالک اور تنظیموں سے قریب لے جانا ہے۔

اس تعلق سے ہم دو مثال پیش کریں گے، ایک کا تعلق عرب دنیا سے ہے اور دوسری کا تعلق یورپ سے ہے۔ ان دونوں واقعات میں سعودی عرب کے خلاف شدید غم و غصہ پیدا ہوا جبکہ سعودی عرب کی حکومت اس صورتحال سے بہت آسانی سے دامن بچا کر نکل سکتی تھی۔

1- سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے فلسطین کی مشہور مزاحمتی تحریک حماس کو انتہا پسند تنظیم قرار دیا جس پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور حماس نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ عادل الجبیر کا بیان، سعودی عرب کے عوام کی فکر کی نمائندگی نہیں کرتا اور نہ ہی فلسطین کی حمایت کی سعودی عرب کی پالیسی کے مطابق ہے۔ اس بیان کا نتیجہ یہ ہوگا کہ غاصب صیہونی حکومت اپنے جرائم کو مزید شدت کے ساتھ انجام دے۔

2 - عادل الجبیر نے جرمنی پر شدید حملہ کیا اور اپنے دوسرے بیان میں کہا کہ ہمیں آپ کے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ عادل الجبیر یمن میں ہزاروں افراد کے قتل عام کے مد نظر جرمنی کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے کہ جرمن حکومت سعودی عرب کو ہتھیاروں کی سپلائی روک رہی ہے۔ اس سے بھی متنازع بیان ریٹائرڈ سعودی جنرل، جنرل عشقی نے دیا جو اس وقت اسرائیل سے سعودی عرب کی دوستی کی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

انور عشقی نے سعودی عرب اور جرمنی کے تعلقات میں پیدا  ہونے والی کشیدگی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔ ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انور عشقی نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت جرمنی سے اس لئے ہتھیار خریدتی ہے کہ وہ جرمنی کے اقتصاد کی مدد کرنا چاہتی ہے ورنہ امریکی ہتھیار، جرمن ہتھیاروں سے بہت بہتر ہیں۔

یہ سمجھ پانا سخت ہے کہ سعودی وزیر خارجہ نے حماس تنظیم پر اتنا شدید حملہ کیوں کیا؟ بس ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کو خوش کرنا چاہتے ہیں جن کی حماس سے دشمنی اظہر من الشمس ہے۔ سعودی عرب کی حکومت اسی کوشش میں ایک بار حماس کو داعش اور القاعدہ کے ساتھ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر چکی ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ الجزائر میں سعودی عرب کے سفیر سامی صالح نے جو بیان دیا وہ بھی اسی موقف کا حصہ تھا۔ انہوں نے گزشتہ سال حماس پر دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے کا الزام عائد کیا تھا اور اس بیان پر معافی بھی نہیں مانگی تھی کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ غلطی سے ان کے منہ سے یہ بات نکل گئی تھی۔

ہماری آرزو یہ تھی کہ انور عشقی جرمن ہتھیاروں کے بارے میں کوئی بیان دینے سے پہلے اچھی طرح سے جرمن اقتصاد اور وہاں کی جی ڈی پی کے بارے میں باقاعدہ مطالعہ کرتے کیونکہ وہ اسٹرٹیجی امور کے ماہر بھی کہے جاتے ہیں۔ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق 2017 کی آخری سہ ماہی میں سعودی عرب نے جو ہتھیار خریدے ہیں ان کی قیمت 148 ملین یورو سے  زیادہ نہیں ہے۔

تو کیا یہ معمولی رقم یا اس کی دس گنا زیادہ رقم کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ جرمنی کے اقتصاد کو سہارا دے رہی ہیں جو یورپ کا سب سے مضبوط اقتصاد سمجھا جاتا ہے اور دنیا میں امریکا، چین اور جاپان کے بعد چوتھے نمبر کی اقتصاد سمجھی جاتی ہے۔  

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس انتہا پسند تحریک نہیں ہے اور نہی دہشت گرد گروہ ہے۔ یہ تنظیم اپنی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بر سرپیکار ہے۔ اس تحریک نے فلسطین کی سرزمین کو آزاد کرنے کے لئے اپنے تمام اقدامات فلسطین کے اندر انجام دیئے ہیں، کوئی بھی حملہ فلسطین کے باہر نہیں کیا ہے۔

اگر عادل الجبیر سعودی عرب کے قانون ساز نہیں صرف پالیسی نافذ کرنے والے  ہیں تو جو لوگ یہ پالیسی بنا رہے ہیں انہیں چاہئے کہ وقت نکل جانے سے پہلے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ ہاں، اگر ان حکام کے افکار ہی تبدیل ہوچکے ہیں تو پھر کچھ کہنے یا تجویز دینے کا کوئی فائدہ نہیں، بس تباہ کن نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: