اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سعودی عرب کی سول اورفوجی انتظامیہ میں نئی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۵۱۵
تاریخ اشاعت: 23:30 - February 27, 2018

سعودی عرب میں اکھاڑ پچھاڑ کی سیاسی وجوہاتمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے مملکت کی مسلح افواج اور انتظامیہ میں وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔

سعودی عرب کی فضائیہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد بن عوض سحیم کو فوجی سربراہ کے عہدے سے ہٹادیا گیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالرحمان بن صالح البنیاں کو بھی مسلح فوج کی سربراہی سے ہٹاتے ہوئے دونوں سربراہان کو جبری طور پر ریٹائر کیا گیا ہے۔

شاہی فرمان کے تحت میجر جنرل فیاض بن حامد الرویلی کو لیفٹیننٹ جنرل کے رینک پر ترقی دیتے ہوئے جنرل سحیم کی جگہ فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، شاہی فرمان کے ذریعے وزارت دفاع کے مختلف شعبوں میں بہتری کے لئے ایک ترقیاتی پیکج کا مسودہ بھی منظور کیا گیا ہے۔

شاہی فرمان کے ذریعے الجوف کے گورنر شہزادہ فھد بن بندر بن عبدالعزیز کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیاجبکہ ان کی جگہ شہزادہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز علاقے کے نئے گورنر ہوں گے۔

شاہ سلمان نے شہزادہ ترکی بن طلال بن عنداالعزیز کو عسیر ریجن کا گورنر مقرر کیا ہے، ان کا عہدہ بھی وزیر کے مساوی ہو گا۔

دریں اثنا شہزادہ فیصل بن فھد بن مقرن بن عبدالعزیز کو حائل ریجن کا نائب گورنر مقرر کیا ہے، نیز شہزاد سلطان احمد بن عبدالعزیز کو شاہی دیوان کورٹ کا مشیر مقرر کیا گیاہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے حکومت پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔ اس سے پہلے سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ولید بن طلال کئی وزیروں اور شہزادوں سمیت دو سو سے زائد اہم شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا اوران سے ڈیل ہونے کے بعد کئی کو رہا کردیا جبکہ اب بھی بہت سے جیل میں ہیں۔

شاہ سلمان نے اس قسم کی کارروائیاں آل سعود میں پائے جانے والے شدید اختلافات کے سامنے آنے کے بعد شروع کیں۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں