اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
حماس کے سینیر رہنما خالد مشعل نے سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو حمایت حاصل نہ ہوتی تو ٹرمپ میں بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔
خبر کا کوڈ: ۴۹۴
تاریخ اشاعت: 21:34 - February 26, 2018

حماس کی سعودی عرب پر کڑی تنقیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی دفتر کےسابق سربراہ خالد مشعل نے ترک پارلیمنٹ کے نمائندے نورالدین نباتی اور ترکی کے بعض دیگر اداروں کے نمائندوں سے ملاقات میں سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ٹرمپ کی حمایت کرکے اس کے حوصلے بلند کئے۔

خالد مشعل نے امریکہ کے اتحادی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے امریکی صدر ٹرمپ کی بھر پور حمایت کرکے اسے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کا حوصلہ عطا کیا جو فلسطینیوں، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت ہے۔

خالد مشعل نے ترک نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے پوری امت مسلمہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ خالد مشعل نے 14 مئی کو امریکی سفارتخانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ ترکی کو اس سلسلے میں عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے خلاف  ترک حکومت اور عوام کے عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ بیت المقدس اللہ تعالی، اسلام اور پیغمبر اسلام کی امانت ہے اور ہمیں اس کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ترکی میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ممالک سربراہوں  نے شرکت نہیں کی تھی۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: