اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سعودی عرب اور مصر نے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب لیگ کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی مخالفت کی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۷
تاریخ اشاعت: 15:19 - January 07, 2018

بیت المقدس پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی مخالفتمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطین انفارمیشن سینٹر نے اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے خبردی ہے کہ اردن نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل جو ہفتے کو بیت المقدس کے بارے میں منعقد ہوا تھا تجویز دی تھی کہ بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدرٹرمپ کے فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے عرب لیگ کاہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جائے لیکن سعودی عرب اورمصرنے اس کی مخالفت کردی۔
سعودی عرب نے اپنی مخالفت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مارچ کے مہینے میں عرب لیگ کا معمول کا سربراہی اجلاس ریاض میں ہونے والا ہے اس لئے بیت المقدس کے بارے میں عرب لیگ کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی اور صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے تجویز پیش کی تھی کہ بیت المقدس کے بجائے فلسطین کا دارالحکومت رام اللہ کو قراردے دیا جائے۔ جبکہ فلسطینیوں اور پوری امت مسلمہ کا متفقہ موقف ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا دائمی اور ابدی دارالحکومت ہے۔
اس درمیان اطلاعات ہیں کہ صیہونی فوجیوں کے ذریعے فلسطینی مظاہرین پر طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے شیطانی فیصلے کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
فلسطینیوں نے بیت المقدس شہرکے محلے صلاح الدین میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ ایک فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان کو ایک مہینے کا عرصہ گذرچکا ہے لیکن اس کے باوجود فلسطینیوں نے صیہونی فوجیوں کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی پروا کئے بغیر ہرروز سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
فلسطینی سرزمینوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی ملکوں میں بھی بیت المقدس کی حمایت اور ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

اسلامی ملکوں میں ہونے والے مظاہروں میں فلسطینی قوم کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے -
دوسری جانب ٹرمپ کے شیطانی فیصلے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے بھی فلسطینیوں اور ان کے مذہبی اور مقدس مقامات کے خلاف کھلے عام جنگ چھیڑ دی ہے اور ابھی حال ہی میں صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کے خلاف متعدد بل پاس کئے ہیں جن کے تحت فلسطینیوں کو پھانسی دینے اورغرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اقدامات کو آسان بنایا گیا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں