اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکی ریاست فلوریڈا کے اسٹون مین ڈوگلس اسکول کے خونی واقعے کے ایک ہفتے بعد امریکی صدر نے اساتذہ کو اسلحہ کی فراہمی کے نظریئے کا خیر مقدم کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۱۳
تاریخ اشاعت: 23:29 - February 22, 2018

تشدد کی روک تھام کے لیے ٹرمپ کی انوکھی تجویزمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق اسٹون مین ڈگلس اسکول سانحے کے متاثرین کے ساتھ ایک ملاقات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اساتذہ کو مسلح کرنے سے متعلق آپ میں سے بعض لوگوں کی تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

تجویز پیش کرنے والوں نے پولیس کے پہنچنے تک مسلح حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے اساتذہ کو مسلح کرنے کو، طلبہ کی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔

بلک مقامات اور خاص طور سے اسکولوں میں فائرنگ کے خونی واقعات کے خلاف بننے والے ماحول میں امریکی صدر کی جانب سے اساتذہ کو مسلح کرنے کی تجویز کی ضمنی حمایت نے رائے عامہ کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

امریکہ میں اسلحہ رکھنے کی آزادی اور اس کے سبب پیش آنے والے تشدد کے واقعات کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں میں طلبہ کے مظاہرے اور کلاسوں کے بائیکاٹ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

شیکاگو، آسٹن اور ٹیکساس میں متعدد اسکولوں کے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ اور سڑکوں پر احتجاج کیا ہے۔

فلوریڈا اسکول کے خونی سانحے میں بچ جانے والے طلبہ نے بھی ریاستی اسمبلی کے سامنے مظاہرہ کر کے ملک میں اسلحہ کی آزادانہ خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی اسمبلی کے ارکان گن کنٹرول قوانین میں لازمی ترامیم کرنے میں ناکام رہے تو پھر دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ان کی رائے یکسر بدل جائے گی۔

مظاہرین نے اعلی حکام اور ارکان کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں جاری تشدد اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے لازمی تدابیر اختیار کریں۔

اس درمیان طاقتور اسلحہ لابی کے حامی بھی خاموش نہیں بیٹھے اور انہوں نے بھی امریکہ میں مسلح تشدد کی روک تھام کی تجاویز پیش کرنا شروع کر دی ہیں۔

اس لابی نے اسلحہ مخالف تحریک کے برخلاف سماج کو زیادہ سے زیادہ مسلح کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلحہ لابی کے حامی ملک میں اسلحہ مخالف ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اسلحہ منڈی کو مزید پر رونق بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں