اپ ڈیٹ: 22 April 2021 - 17:12
پاکستانی فوج کے ترجمان:
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے 3 مغوی ایرانی اہلکاروں سے متعلق کہا ہے کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ ایران سے فوجی اور سیکورٹی شعبوں میں اچھے تعلقات ہیں اور ہم اس مسئلے سے متعلق ایران سے رابطے میں ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۴۱۲۰
تاریخ اشاعت: 0:11 - January 12, 2021

مغوی اہلکاروں کی بازیابی کیلئے ایران سے رابطے میں ہیںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار میجر جنرل "بابر افتخار" نے پیر کے روز راولپنڈی میں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستانی کی سلامتی کی صورتحال، پاک- ایران سرحدوں پر باڑ لگانے کا منصوبہ اور علاقے میں داعش کی موجودگی پر بات کی۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے 3 ایرانی مغوی اہلکاروں کی بازیابی سے متعلق ارنا نمائندے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم اس حوالے سے ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایران اور پاکستان کے مابین فوجی -سلامتی رابطوں کا تعلق ہے، تو یہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور دونوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات ہیں۔

میجر جنرل افتخار نے ایران سے اچھے او تعمیری تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی تعلقات میں کوئی رکاوٹیں نہیں ہیں اور دونوں فریقوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ہے۔

انہوں نے علاقے میں داعش کے دہشتگردانہ اقدامات و نیز بلوچستان میں حالیہ دنوں میں داعش کے ہاتھوں 11 کان کنوں کے قتل سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی حکومت اور فوج نے پاکستان میں داعش کی بھرتی اور مدد کرنے کی غیر ملکی کوششوں پر ایک فائل تیار کی ہے اور اسے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ پاکستان میں داعش گروپ کے قیام اور انتظام کے لئے بیرونی مدد حاصل ہے اور ہم اس کی نگرانی کر رہے ہیں؛ یہاں تک کہ دوسری دہشت گرد تنظیموں کے کچھ الگ الگ گروپ داعش کا نام استعمال کرکے ساکھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں داعش کی سنجیدہ موجودگی نہیں ہے اور اس صورتحال پر پوری طرح سے نگرانی کی جارہی ہے تاکہ یہ عناصر ملک میں مستقل طور پر کام نہیں کرسکیں گے۔

انہوں نے پاک- ایران مشترکہ سرحدوں پر باڑ لگانے کے منصوبے سے متعلق کہا کہ اب تک اس منصوبے کے 37 فیصد کا حصہ مکمل کرچکا ہے اور یہ منصوبہ آئندہ سال تک مکمل ہوجائے گا۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں