اپ ڈیٹ: 08 May 2021 - 17:15
مقبوضہ جموں و کشمیرمیں پولیس نے بھارتی فوج کے ہاتھوں 3 جوانوں کو جعلی مقابلے میں ہلاک کیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۴۰۵۸
تاریخ اشاعت: 19:11 - December 28, 2020

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 3 جوانوں کو جعلی مقابلے میں ہلاک کرنے کی تصدیقمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیرمیں  پولیس نے بھارتی فوج کے ہاتھوں 3 جوانوں کو جعلی مقابلے میں ہلاک کیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔ رواں سال 18 جولائی کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے مقابلے میں 3 نوجوانوں کو علیحدگی پسند قرار دے کر ہلاک کردیا تھا ، بھارتی فوج کا یہ الزام جھوٹا ثابت ہوگیا۔ بھارتی پولیس نے اپنی تحقیقات میں اس مقابلے کے جعلی ہونے کی تصدیق کردی۔

پولیس نے عدالت میں 14 سو صفحات پر مشتمل چارج شیٹ فائل کردی جس کے مطابق بھارتی فوج کے کیپٹن بھوپندر سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں تابش نذیر اور بلال احمد لون نے 3 نوجوان مزدور جو آپس میں کزن تھے، 21 سالہ امتیاز احمد، 25 سالہ ابرار احمد اور 17 سالہ محمد ابرار کھٹانا کو اغوا کرکے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور مقابلے کا ڈرامہ رچانے کیلئے لاشوں پر غیر قانونی بندوقیں رکھ دیں۔

بھارتی فوجیوں نے شناخت چھپانے کے لیے نوجوانوں کی لاشیں مسخ کیں اور ان کے شناختی کارڈز کو جلادیا اور پھر میڈیا پر انہیں خطرناک پاکستانی دہشت گرد قرار دینے کا بیان جاری کیا جبکہ انہیں خاموشی سے دفنادیا گیا۔ بلال احمد لون اس کیس میں وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔

تینوں مزدور راجوری کے رہائشی تھے جو روزی کمانے کے لیے شوپیاں گئے تھے اور ان کا عسکریت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کے اہل خانہ نے ان کی شہادت کے ایک ماہ بعد سوشل میڈیا پر زیر گردش تصاویر سے انہیں پہچانا۔ ستمبر میں ان نوجوانوں کی قبر کشائی کرکے ان کے جسد خاکی واپس ان کے اہل خانہ کے حوالے کیے گئے۔ کیپٹن بھوپندر سنگھ اور اس کے ساتھی گرفتار ہیں جن پر قتل، سازش اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں