اپ ڈیٹ: 08 March 2021 - 14:44
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خآرجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور قرار داد پیش کرنے والے پستی میں امریکی درجہ پر پہنچ گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۴۰۰۸
تاریخ اشاعت: 22:05 - December 17, 2020

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور قرار داد پیش کرنے والے ممالک پستی میں امریکی درجہ پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کی طرح قرارداد کو کینیڈا نے پیش کیا اور قرارداد کی یورپی ممالک اور اسرائیل نے حمایت کی۔ جبکہ اس قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور عالمی اداروں کے ذریعہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں استفادہ قابل مذمت ہے۔ سعید خطیب زادہ نے ایران مخالف قرارداد کے بانی ممالک میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی اور یورپی ممالک، دنیا بھر میں اپنے ہتھیاروں کی فروخت کے ذریعہ بیشمار انسانوں کا قتل عام کررہے ہیں اور یمن ان کی بربریت کا واضح ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نصف سے کچھ زائد ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ نصف سے کچھ کم ممالک نے قرار داد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ خطیب زادہ نے کینیڈا اور قرارداد کے بانی ممالک کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئےکہا کہ کینیڈا اور دیگر ممالک کی اس قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور مغربی و یورپی ممالک میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ واضح رہے کہ ایران مخالف قرارداد پہلے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں منظور ہوچکی تھی ۔امریکہ، سعودی عرب ، اسرائيل، بحرین، امارات، آلبانیہ، برطانیہ، کینیڈا ، فرانس اور جرمنی نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جبکہ 115 ممالک نے ایران مخالف قرارداد پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں