اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
پاکستانی فوج کے اضافی دستے سعودی عرب بھیجنے پر پاکستان کی قومی اسمبلی میں زبردست بحث ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۹۵
تاریخ اشاعت: 11:20 - February 22, 2018

پاکستانی فوج یمن میں لڑنے گئیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاک فوج کو سعودی عرب بھیجنے کا معاملہ پھر زیر بحث آیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ ہماری فوج یمن میں لڑنے گئی ہے حالانکہ پارلیمنٹ نے سعودی عرب فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع خرم دستگیر کیوں نہیں بتا رہے کہ ہماری فوج سعودی عرب کیوں گئی ہے، بتایا جائے سعودی عرب میں پاک فوج کہاں تعینات ہو گی؟

شیریں مزاری نے کہا کہ بتایا جائے ہماری فوج کس کے کہنے پر کہاں بھیجی جا رہی ہے، جبکہ سعودی عرب کے کہنے پر فوج کیوں وہاں بھیجی گئی، وزیر دفاع کا یہ کہنا کہ ہم کچھ نہیں بتا سکتے، سراسر غلط ہے وزیر دفاع کو جواب دینا ہوگا۔

پاکستانی کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وزیر دفاع کو آج خط لکھ رہا ہوں، ان سے کہوں گا آئندہ اجلاس میں معاملے پر بریفنگ دیں۔ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وزیر دفاع جلد اس کی تفصیل بتائیں گے۔

واضح رہے کہ 15 فروری کو پاکستانی فوج نے مزید دستے سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا تھا جس پر پاکستانی سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اس ملک کے وزیر دفاع کو سینٹ میں طلب کر کے ان سے اس حوالے سے وضاحت کرنے کو کہا تاہم وہ ایوان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان کے عوام،سیاسی اور مذہبی جماعتیں پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں تعیناتی کی مخالف ہیں اور انہوں نے سعودی عرب میں فوج کی تعیناتی کو قومی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں