اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی مذموم کوششوں کے باوجود ایران اور عراق کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی علاقائی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیونکہ تہران کی پالیسیاں علاقائی حقائق اور مفادات پر استوار ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۳۲۲۲
تاریخ اشاعت: 23:39 - December 17, 2018

ایران کی پالیسیاں علاقائی حقائق و مفادات پر استوار ہیںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں کے سوالوں کا جوابات دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ حکومت امریکہ، ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں کمی کے لیے عراق پر بے تحاشہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اسلامی جمہوریہ ایران کا اچھا ہمسایہ اور اقتصادی شریک ہے اور امریکہ کی مذموم کوششوں کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے دورہ قطر اور نئی علاقائی سفارت کاری کے بارے میں کہا کہ ایران کی علاقائی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیونکہ تہران کی پالیسیاں شروع ہی سے علاقائی حقائق اور مفادات پر استوار ہیں۔

بہرام قاسمی نے روس اور چین کی سرکاری کمپنیوں کی جانب سے ایران میں تیل و گیس کے شعبے کی ترقی میں مشارکت ترک کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک اس بارے میں مذکورہ ملکوں کی حکومتوں کی جانب سے باضابطہ طور پر اعلان سامنے نہیں آجاتا اس وقت تک اس قسم کی خبروں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں پر ایران کے ساتھ شراکت ختم کرنے کے لیے امریکہ بے تحاشہ دباؤ ڈال رہا ہے۔

ایران کی وزارت کے ترجمان نے شمالی شام میں ترک فوج کے آپریشن کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجموعی پالیسی یہ ہے کہ شامی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی ملک کو شام میں کارروائی نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس اصول کا خیال نہ رکھا جائے تو آستانہ مذاکرات کا عمل مشکل کا شکار ہو سکتا ہے۔

بہرام قاسمی نے یمن میں جنگ بندی کی حمایت کے بارے میں کہا کہ یمن پر سعودی جارحیت کے بعد سے آج تک ایران کا موقف بالکل واضح رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے یمن میں قیام امن اور انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی غرض سے شروع ہی میں چودہ نکاتی تجاویز پیش کی تھیں تاکہ اس ملک میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے لیے مختلف یمنی دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ اسٹاک ہوم مذاکرات، یمنی عوام کے لیے مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہوں گے اور اس ملک کے خلاف جارحیت کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔

بہرام قاسمی نے جمال خاشقجی قتل کیس کے تعلق سے سعودی عرب کے خلاف امریکی سینیٹروں کے سخت موقف اور مشرق وسطی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی متضاد پالیسیوں کے بارے میں کہا کہ ٹرمپ ہر روز بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی موضوع چھیڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ملکوں کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیوں میں کھلا تضاد پایا جاتا ہے اور یہ شخص انصاف اور منطق سے عاری ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فرانس میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے بارے میں کہا کہ یہ اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے لیکن فرانس کی حکومت کو چاہئے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے مظاہروں کے لیے پرامن اور مناسب ماحول فراہم کرے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: