اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کل رات حالیہ امریکی اقدامات کو ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے سمندر میں ڈوبی ہوئی کشتی اور 6 سال پہلے بند ہونے والے بینک پر پابندیاں لگائی ہیںجس سے اس کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۸۱
تاریخ اشاعت: 11:51 - November 06, 2018

امریکہ خوف میں مبتلا ڈوبی ہوئی کشتی اور پرانے بینک پر پابندیاںمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے توئٹر پر ایران مخالف نئی امریکی پابندیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہایت مایوسی کے ساتھ ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کشتی اور بینک پر پابندی عائد کی جو ایک سال پہلے سمندر میں ڈوب گئی اور وہ بینک بھی 6 سال پہلے بند ہوگیا تھا.

محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ نے صرف ایرانی اداروں پر پابندیاں نہیں لگائیں بلکہ اس نے براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بنایا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ روز ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی فہرست جاری کردی جس میں ایرانی کشتی سانچی کا بھی نام  شامل ہے جو گزشتہ سال آتشزدگی کے واقعے میں سمندر میں ڈوب گئی تھی ۔ سانچی ایران کی قومی تیل کمپنی کی ملکیت تھی جس کو پاناما کے جھنڈے لگا کر مصنوعات کی ترسیل کے لئے استعمال کیا جاتا تھا.

رواں برس کے 6 جنوری کو ایران کا تیل بردار جہاز سانچی ایک چینی کارگو جہاز سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں جہاز میں شدید نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی. اس واقعے میں جہاز کا 32 رکنی عملہ جس میں 30 ایرانی اور 2 بنگلہ دیشی شہری شامل تھے، جاں بحق ہوئے.

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے رواں برس آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے اور ایران کے خلاف پابندیاں اگست اور نومبر میں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا- ان پابندیوں کو دو مرحلوں میں یعنی نوے روز سے ایک سو اسّی روز کے اندر عائد کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا- چنانچہ امریکی پابندیوں کے پہلے مرحلے کا نفاذ چھے اگست سے شروع ہوا تھا اور ایران مخالف امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ پانچ نومبر دو ہزار اٹھارہ سے شروع ہوا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں