اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق امریکی رویہ اور مسلسل خلاف ورزی اس کے زوال کی علامت ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۹۷۹
تاریخ اشاعت: 11:09 - November 06, 2018

جوہری معاہدے سے متعلق امریکی رویہ اس کے زوال کی علامت : ایرانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور سید عباس عراقچی نے ایران کے قومی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ امریکی حکام  نے سرتوڑ کوشش کی کہ دنیا کو ایران کے خلاف کھڑا کرے مگر غاصب صہیونی حکومت اور سعودی عرب کے سوا کسی ملک نے امریکی اقدامات کا ساتھ نہیں دیا۔

سید عباس عراقچی نےجوہری معاہدے سے امریکہ  کے انخلا کو غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے امریکی صدر ٹرمپ کے برعکس جوہری معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد  پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ایران و یورپ کے مابین مالی معاملات کیلئے (SPV)کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک امریکی پابندیوں کو بے اثر کرنے کے لئے موثر طریقہ تلاش کررہے ہیں اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی صدر اپنے مقاصد میں ناکام ہوئے ہیں۔

سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایرانی عوام کے ساتھ احترام اور عزت پر مبنی گفتگو کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور آخر کار ٹرمپ ایرانی عوام کے ساتھ عزت کی زبان میں گفتگو کرنے پر مجبور ہوں گے اس لیےکہ ایرانی عوام دھونس و دھمکی کے سامنے جھکنے والے نہیں اور اپنے اصولی موقف پر قائم و دائم ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے رواں برس آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے اور ایران کے خلاف پابندیاں اگست اور نومبر میں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا- ان پابندیوں کو دو مرحلوں میں یعنی نوے روز سے ایک سو اسّی روز کے اندر عائد کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا- چنانچہ امریکی پابندیوں کے پہلے مرحلے کا نفاذ چھے اگست سے شروع ہوا تھا اور ایران مخالف امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ پانچ نومبر دو ہزار اٹھارہ سے شروع ہوا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں