اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سعودی حکومت کو اس بات کا علم ہونے کے بعد کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کا ایک بیٹا استنبول میں سعودی قونصل خانے میں اپنے باپ کے بہیمانہ قتل کے معاملے کو عدالت میں لے جانے والا ہے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولیعہد بن سلمان نے خاشقجی کے گھر والوں سے ملاقات کی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۸۶۹
تاریخ اشاعت: 15:09 - October 24, 2018

شاہ سلمان سے جمال خاشقجی کے بیٹے اور گھر والوں کی جبری ملاقاتمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، ایک ایسے وقت جب خاشقجی کے قتل کے معاملے میں انگشت اتہام سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب اٹھنے لگی ہے، منگل کی شام شاہ سلمان اور بن سلمان نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے گھر والوں سے شاہی محل میں ملاقات کی-

شاہ سلمان اور ولیعہد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ارودغان کے منگل کے روز کے پارلیمنٹ میں خطاب کے  بعد جمال خاشقجی کے اہل خانہ سے ملاقات کی-

انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے بیٹے صلاح کو کو شاہ سلمان اور ولیعہد بن سلمان سے ملاقات پر مجبور کیا گیا ہے-

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنے ٹویٹر پیج پر سہل بن احمد خاشقجی اور صلاح بن جمال خاشقجی کی سعودی شاہ اور ولیعہد سے ملاقات  کی تصویریں شائع کی ہیں-

شاہ سلمان نے اس ملاقات میں دعوی کیا کہ ان کی حکومت جمال خاشقجی کے قاتلوں کو وہ جہاں بھی ہوں گے سزا دے گی- الخلیج آن لائن نیوز ویب سائٹ نے خبر دی ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولیعہد بن سلمان نے سعودی حکومت پر پڑنے والے عالمی دباؤ اور تنقیدوں کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے مقتول صحافی کے اہل خانہ سے ملاقات کی-

ساتھ ہی سعودی شاہ اور ولیعہد کی خاشقجی  کے اہل خانہ سے ملاقات ان رپورٹوں کے منظر عام پر آنے کے بعد انجام پائی ہے کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خاشقجی کا قتل سعودی حکام کی اطلاع میں لا کر کیا گیا ہے اور اس حقیقت کو استنبول کے سی سی ٹی وی کیمروں اور رویٹرز جیسی بعض نیوز ایجنسیوں نے بھی اجاگر کیا ہے-

البتہ ابھی یہ بات سامنے نہیں آسکی ہے کہ شاہ سلمان نے خاشقجی کے اہل خانہ سے سعودی حکومت کا ساتھ دینے اور خاشقجی قتل کے معاملے میں آل سعود حکومت کے وضاحتی بیان کی تصدیق کرنے کے لئے کہا ہے یا نہیں؟

لیکن یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا سعودی حکومت واشنگٹن میں سعودی عرب کے خلاف عبداللہ خاشقجی کے ذریعے مقدمہ دائر کئے جانے کے اقدام کو روکنے  کے لئے خاشقجی کے اہل خانہ پر کہیں دباؤ تو نہیں  ڈال رہی ہے؟

جنیوا کونسل نامی انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم کے سرگرم عہدیدار نے الخلیج آن لائن سے گفتگو میں خاشقجی کے اہل خانہ اور ان کے بیٹے صلاح کو سعودی عرب سے باہر نہ جانے دینے اور شاہ سلمان اور ولیعہد سے جبری ملاقات پر مبنی خبروں کی مذمت کی ہے-

سی این این ٹیلی ویژن چینل نے بھی فاش کیا ہے کہ سعودی حکام نے تین مہینے قبل جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح کا پاسپورٹ کینسل کر دیا تھا تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں-

سی این این نے تیرہ اکتوبر کو خاشقجی کے گھر والوں کے قریبی ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صلاح سعودی عرب سے باہر نہیں نکل سکتے-

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں