اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے تھرمیں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کے معاملےپر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود تھر چلا جاؤں گا، وہاں لوگوں کو مرنے نہیں دوں گا۔
خبر کا کوڈ: ۲۷۶۵
تاریخ اشاعت: 21:50 - October 09, 2018

تھرمیں لوگوں کو غربت کی وجہ سے مرنے نہیں دونگا، چیف جسٹسمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، تھرمیں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکت کے معاملےپرازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ اتنے عرصے سے یہ ایشو چل رہا ہے اسے حل کیوں نہیں کیا جا رہا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ اس حوالے سے رپورٹ دی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ نہیں حل چاہیے، آپ نے وہاں جو گندم بھجوائی اس میں بھی ریت نکلی، میں خود تھر چلا جاؤں گا، بتائیں کس دن آؤں، میں اپنے لوگوں کو مرنے نہیں دوں گا،خشک سالی کے حوالے سے کیا پالیسی بنائی گئی ہے،لوگوں کو خوراک اور پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے،صوبے کی ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو دیکھے۔

عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود ایم این اے رمیش کمار کو تھر کے حالات بتانے کے لیے روسٹرم پر طلب کر لیا۔

رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ تھر میں بہت زیادہ کرپشن ہے، کوئلے کی وجہ سے زمینوں پہ قبضے ہو رہے ہیں، فیملی پلاننگ نہیں ہو رہی، جو خوراک مستحقین کیلئے آتی ہے اس میں ایم این اے اور ایم پی اے کا نام بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تھر کے علاقے میں منشیات فروشوں کا راج ہے،اربوں روپے لگانے اور افتتاح کے باوجود تھر کول پلانٹ بند ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکریٹری پالیسی بنا کر لائیں کہ مسائل کا حل کیسے نکل سکتا ہے، انہوں نے تھر کے علاقے میں خوراک اور پانی کے ٹرک ہنگامی بنیادوں پر بھجوانے کی ہدایت کر دی۔

سیکریٹری ہیلتھ سندھ نے تھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی رپورٹ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس سال تھر میں کل 486 بچے جاں بحق ہوئے،

ایک سے انتیس دن کے 317 بچے جاں بحق ہوئے، ایک سال کی عمر کے چورانوے جبکہ ایک سال سے زائد عمر کے پچہتر بچے جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے ہلاکتوں کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ماؤں کی صحت ٹھیک نہیں اور بچوں میں وقفہ نہیں،لیڈی ہیلتھ ورکرز صرف بیالیس فیصد علاقے کو کور کرتی ہیں، اب این جی اوز کو شامل کر کے پلان بنا رہے ہیں کہ پوری علاقے میں ماؤں کو سہولیات دیں۔

چیف جسٹس نے استفسارکہ اٹارنی جنرل بتائیں کہ عدالت اس حوالے سے کیا اقدامات لے سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان علاقوں میں اسپتال ہیں ڈاکٹرز نہیں، مشینیں ہیں آپریٹرز نہیں،جو ڈاکٹر وہاں جاتا ہے سمجھتا ہے اسے سزا ملے ہے وہ مریضوں کو سزا دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی نے جنگی حالات کے اقدامات کیے؟، سب کچھ کاغذات پر ہے جس کے بعد عدالت نے سیکریٹری ہیلتھ سندھ کی رپورٹ مسترد کر دی۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل، صحت، خزانہ، ورکس، خوراک، آبادی اور تعلیم کے سیکریٹریر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے آخر میں ریمارکس دیئے کہ چیف منسٹر اور سیکریٹری صحت بتائیں کہ لوگ کیوں مر رہے ہیں؟

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں