اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے بارے میں اس ملک کے وزیر اعظم عمران خان کے اعلان پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۶۲۷
تاریخ اشاعت: 20:57 - September 26, 2018

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کو شہریت دیئے جانے پر احتجاجمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے افغان پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں اور بنگالیوں کو شہریت دیئے جانے سے یہ اقدام پاکستان کو ایک عالمی یتیم خانے میں تبدیل کردے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان میں پیدا ہونے والے بنگالیوں اور افغان باشندوں کو شہریت دینے کے اعلان پر قومی اسمبلی میں نئی بحث چھڑ گئی، معاملے پر پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ اور پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کے مابین شدید جھڑپ بجھی ہوئی۔

پیپلزپارٹی اور بی این پی مینگل کے مشترکہ توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے نفیسہ شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے کراچی کے عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے بے حس بیان دیا، وزیراعظم کا یہ بیان شہر قائد کی حساسیت کو جانے بغیر سامنے آیا ہے جہاں وسائل پر کئی بار خانہ جنگی دیکھی گئی ہے، عمران خان مدینہ جیسی فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں جب کہ انہیں شاید معلوم نہیں کہ کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی مہاجرین آج تک شہریت حاصل نہیں کر سکے ہیں، حکومت ایسا کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ملک میں رہنے والے پناہ گزینوں اور مہاجرین کی معلومات اکٹھی کرے۔

نفیسہ شاہ نے مزید کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ سعودی عرب میں کون سے معاہدے ہوئے، چندے سے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی تو بن سکتی ہے لیکن ڈیڑھ کھرب روپے کا ڈیم نہیں بن سکتا۔

بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومت بنگالیوں اور افغانیوں کو انسانی حقوق کی بنیاد پر شہریت دینے پر غور کر رہی ہے جب کہ بلوچ عوام کو ان کے اپنے ہی ملک میں انسان تک نہیں سمجھا جاتا، اس معاملے پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں