اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
حج کے امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے حج سفارتکاری مددگار ثابت ہوسکتی ہے.انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب باہمی مذاکرات اور بات چیت سے مسائل و مشکلات کو کم کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۲۳۰۱
تاریخ اشاعت: 12:20 - August 27, 2018

ایران و سعودی عرب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کر سکتے ہیں: ایرانی نمائندہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علامہ سید علی قاضی عسکر نے مکہ مکرمہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حج کے حوالے سے دونوں ممالک نے تعمیری مذاکرات کئے جس سے مثبت نتائج سامنے آئے لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی کے لئے بھی حج جیسی بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا.

انہوں نے کہا کہ اس سال حج کے دوران مختلف سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں اور ہمیں امید ہے کہ اس سال حج کے بہتر انعقاد کے بعد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بحالی کے لئے سازگار ماحول فراہم ہوا ہے لہذا دونوں ممالک طویل مدت تعلقات کے لئے مذاکرات کا آغاز کریں.

علامہ قاضی عسکر کا کہنا تھا کہ دشمنی اور جارحانہ رویے سے ایران اور سعودی عرب کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، ایسے وقت میں جب داعش کی سازش کو خطے سے ختم کردیا گیا ہے ہمیں چاہئے کہ بڑے مقاصد کے لئے آگے بڑھیں اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایک علاقائی اتحاد کا قیام عمل میں لائیں.

علامہ سید قاضی عسکر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کیا ہمیں حج کے موقع پر مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے باہمی چارہ جوئی نہیں کرنی چاہئے کہا کہ امریکہ، اسلام اور مسلمانوں کی عزت کو نیچے دکھانا چاہتا ہے اور اقوام متحدہ بھی عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے.

انہوں نے سانحہ منیٰ اور مسجدالحرام کے واقعے میں شہید ایرانی حاجیوں کے کیس سے متعلق کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے ذریعے ایرانی شہداء کودیعت کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب کو نام دئیے ہیں تاہم ابھی تک تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ایران اس مسئلے کے حل پر تاکید کرتا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں