اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
جس ملاقات میں اتحادی اور دوست جمع ہوں اس پر عام طور پر سوال نہیں اٹھتا۔ یہی بات حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ اور انصاراللہ کے وفد کی ملاقات کے بارے میں کہا جانا چاہئے۔
خبر کا کوڈ: ۲۲۵۱
تاریخ اشاعت: 22:07 - August 22, 2018

حزب اللہ اور انصار اللہ کی ملاقات اور پوشیدہ راز + مقالہاس وفد میں انصار اللہ کے ترجمان محمد عبد السلام، عبد الملک الاجری اور ابراہیم الدیلمی شامل تھے۔ حزب اللہ اور انصار اللہ کی دوستی قدیمی ہے اور یمن پر سعودی عرب نے جب حملوں کا آغاز کیا تھا تو اس کے خلاف حزب اللہ نے واضح الفاظ میں اپنی آواز بلند کی اور اس سے یہ دوستی مزید پختہ ہوئی۔ حالانکہ سعودی عرب کی کھل کر مخالفت کرنے کی وجہ سے حزب اللہ اور سید حسن نصراللہ کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

سید حسن نصر اللہ سے انصار اللہ کے نمائندوں کی ملاقات میں متعدد راز پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ یہ پہلا موقع ہے جب اس ملاقات کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ملاقات کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب دو اہم باتیں رونما ہو رہی ہیں۔ ایک دو یمنی فریق کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں جس کی نگرانی اقوام متحدہ کرے گا۔ دوسری جانب لبنان میں نئی حکومت تشکیل پانے والی ہے۔ اس سے پہلے انتخابات میں حزب اللہ الاینس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ یہ کامیابی سعودی عرب کی شکست کے معنی میں بھی ہے۔

اس وقت انصار اللہ اور حزب اللہ کو سعودی عرب کے مقابلے میں اہم کامیابیاں ملی ہیں۔ حزب اللہ نے لبنان میں سیاسی کامیابی حاصل کی اور یمن میں انصار اللہ نے سعودی اتحاد کی فوجی کاروائیوں کو ناکام بنا کر میدان جنگ میں اسے شکست دی ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی ناکامی اس لئے ہے کہ وہ یمن کی فوج اور رضاکارفورس کی مزاحمت کو شکست نہیں دے پایا ہے، ہاں عام شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے ریاض حکومت کو پوری دنیا میں تنقیدوں کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب نے حال ہی میں بچوں کا قتل عام کیا جس سے وہ عرب دنیا اور مغربی ممالک کی بھی تنقیدوں کا سامنا کر رہا ہے۔

سعودی عرب بارہا الزام عائد کرتا ہے کہ حزب اللہ یمن میں انصار اللہ کی مدد کر رہا ہے۔ سعودی عرب یہ پروپیگینڈا کرکے انصار اللہ کی مقبولیت کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یمن کی داخلی صورتحال یہ ہے کہ انصار اللہ سعودی عرب کے حملوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے ملک کےعوام کے درمیان مزید مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی بمباری سے عام شہریوں کے قتل عام کے نتیجے میں یمن میں سعودی عرب کے خلاف نفرت عروج پر ہے۔

جنگ یمن سے سعودی عرب کے صرف یہی نتیجہ ملا ہے کہ دنیا میں اس کی تنقید ہو رہی ہے اور یمن میں سعودی عرب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

طالب الحسنی

یمنی مقالہ نگار

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں