اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سینیئرکمانڈر حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ خلیج فارس سے دیگر علاقوں کے لئے تیل اور انرجی کی سپلائی کا دارومدار ایران کے ذریعے قائم کی جانے والی سیکورٹی پر ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۰۱۰
تاریخ اشاعت: 7:55 - July 28, 2018

تیل کی سپلائی کا انحصار ایران کی جانب سے قائم کی جانےوالی سیکورٹی پر ہےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے ایک انٹرویو میں ان ملکوں کو خطاب کرتے ہوئے جو خلیج فارس میں سیکورٹی کے قیام کے بہانے اپنی موجودگی کا جواز پیش کررہے ہیں کہاکہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ خطے میں اغیار کی موجودگی نہ صرف سیکورٹی کی برقراری کا باعث نہیں ہوگی بلکہ علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ بھی ہے۔

ایرانی فوج کے سینیئر کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ اگر اغیار خلیج فارس سے نکل جاتے ہیں تو خطے میں سیکورٹی خود بخود قائم ہوجائے گی -

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں سیکورٹی کے قیام کے لئے دوسروں کی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خطے کی سیکورٹی علاقے کے ملکوں کے ذریعے ہی قائم کی جائے گی۔

ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز، اس کے مشرقی علاقے، شمالی بحرھند اور بحیرہ عمان میں ایران کے ذریعے قائم کی جانے والی سیکورٹی سے حاصل ہونے والے فوائد اور ثمرات علاقے کے سبھی ملکوں کو ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیج عدن میں ایرانی بحریہ نے جو سیکورٹی قائم کی ہے اس سے صرف ایرانی بحری جہازوں کو ہی فائدہ نہیں ہورہا ہے بلکہ دنیا کے ان سبھی ملکوں کے مال بردار بحری جہازوں اور آئیل ٹینکروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو ایران سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔

اس درمیان نائب وزیردفاع نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اتنی دفاعی توانائی اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ علاقے کے کسی بھی حصے میں جارح دشمن کے ہاتھ قلم کرسکتا ہے۔ ایران کے نائب وزیردفاع بریگیڈیر رضا طلائی نیک نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اقتصادی میدان میں مشکلات کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر بھی مسائل پیدا کرنے اور خطے میں جاری جنگ کا دائرہ ایران کے اندر تک پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ خطے میں شکست کھائیں گے -

انہوں نے کہا کہ آج ایران کےمیزائل اور دفاعی ساز و سامان دشمن کو بھرپور جواب دینے کی توانائی رکھتے ہیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں