اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ابوظہبی ہوائی اڈے پر یمنی فوج کے ڈرون حملے کے بعد یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ ڈرون امریکی اور سعودی جارح قوتوں کے مقابلے میں یمن کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہے - اس درمیان یمن کی فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بعد والے مرحلے میں جارح ملکوں کی تنصیبات یمنی فضائیہ کی نشانے پر ہوں گی
خبر کا کوڈ: ۲۰۰۲
تاریخ اشاعت: 18:17 - July 27, 2018

ابوظہبی ہوائی اڈے پر حملہ یمنی فوج کی بڑی کامیابیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، یمنی فضائیہ کے ترجمان عبداللہ حسن الجفری نے ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کے بارے میں کہا  کہ صماد تین قسم کا ڈرون طیارہ متحدہ عرب امارات کے راڈار کی پہنچ سے بچ نکل کر پندرہ سوکلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ابوظہبی کی فضا میں پہنچا اور اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے حملے انجام دئے -

عبداللہ حسن الجفری نے کہا کہ ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمن کا ڈرون حملہ بالکل اسی طرح غیر معمولی حملہ ہے  جس طرح اس سے پہلے یمنی فضائیہ کے ڈرون طیاروں نے اٹھارہ جولائی کو سعودی دارالحکومت ریاض میں آئل ریفائنری اور پانچ جولائی کو عدن میں سعودی اور اماراتی اتحاد کے کنٹرول روم پر غیر معمولی حملے کئے تھے -

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ اور یمن کی مسلح افواج کے سربراہ مہدی المشاط نے بھی ابوظہبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کامیاب حملے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صماد تین ڈرون طیارہ یمنی فوج اور دفاعی صنعت میں تیار کیا گیا ایک غیر معمولی اور جدید ترین ڈرون طیارہ ہے جس سے دفاعی طاقت میں کافی حدتک اضافہ ہوا ہے -

یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہاکہ یمن کے ڈرون طیاروں نے دشمن کی آنکھوں کی نیند حرام کردی ہے اور اس نے اپنی کارکردگی ثابت کردکھائی ہے - یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ اب اس کے بعد یمن کے خلاف جنگ میں سعودی اتحاد میں شامل ملکوں کے دارالحکومت محفوظ نہیں رہیں گے -

انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کے دوران کہاکہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس قتل وغارتگری کے حق میں نہیں ہے لیکن دشمنوں اور جارح افواج کے مسلسل وحشیانہ حملوں کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی بھی نہیں رہے گی  ۔اس درمیان یمنی حکام نے یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفیتس کے دورہ صنعا کو اس بات کی علامت قراردیا ہے کہ یمن کے دروازے سیاسی مذاکرات کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک انصاراللہ یمن کے سبھی گروہوں کے ساتھ اغیار کی مداخلت کے بغیر بات چیت کے لئے تیار ہے -

انصاراللہ کے ترجمان نے کہا کہ باوجود اس کے کہ مفرور اور مستعفی صدر منصورہادی کی حکومت کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن جس طرح  سے یمن کی عوامی انقلابی تحریک بین الاقوامی آبی گذرگاہوں کی سیکورٹی کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہے اسی طرح منصورہادی کے ساتھ بھی مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتی - یاد رہے کہ یمن کے بحران کے حل کے لئے سیاسی مذاکرات کا عمل سعودی عرب کی وعدہ خلافیوں اور اس کے ذریعے کھڑی کی گئی مشکلات کی بنا پر بارہا شکست سے دوچار ہوچکا ہے-    

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں