اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
امریکی وزیر خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین کے ایک گروہ منجملہ دہشت گرد عناصر کے اجلاس میں شرکت کر کے ایک بار پھر ایران سے واشنگٹن کی کھلی دشمنی کا ثبوت پیش کیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیان پر وہاں موجود کچھ لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔
خبر کا کوڈ: ۱۹۴۴
تاریخ اشاعت: 14:59 - July 23, 2018

امریکا کی ایران سے کھلی عداوت و دشمنیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیئو نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین اور دہشت گرد عناصر کے اجلاس میں شرکت کی لیکن اس کے باوجود جیسے ہی انہوں نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کی وہاں موجود لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور مائیک پمپیئو کی تقریر کو روکنے کی کوشش کی-

وہاں موجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد امریکی وزیر خارجہ کے خلاف ہی نعرے لگانے لگی۔  واشنگٹن میں رونلڈ ریگن پرسیڈ نشیل لائبریری میں ہوئے اس اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مٹھی بھر مخالفین اور دہشت گردوں کے درمیان امریکی وزیر خارجہ نے تقریر کی- تقریر کے دوران وہاں موجود لوگوں نے جب مائیک پمپیؤ کی ہرزہ سرائی پر احتجاج کیا تو سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں وہاں سے زبردستی باہر نکال دیا-

اس پورے واقعے کے دوران امریکی وزیر خارجہ کی تقریر رکی رہی- امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے مٹھی بھر مخالفین اور دہشت گردوں کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران دعوی کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مغرب کا دشمن ہے- انہوں نے ایک ایسے وقت جب واشنگٹن کی حکومت امریکی سیاہ فاموں کا آئے دن قتل کرتی ہے اور سیاہ فاموں کے قتل عام میں سیاہ کارنامے کی مالک ہے، ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا-

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر توجہ دیئے بغیر کہ امریکا نے مغربی ایشیا میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں، شام کی قانونی حکومت اور استقامتی محاذ کی حمایت کرنے کی وجہ سے ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا-

امریکی وزیرخارجہ نے صیہونیزم کی حمایت میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اسلامی انقلاب کی پہلی آئیڈیالوجی اسرائیل کی نابودی ہے- پمپیئو نے اپنی لفاظی کے دوران ایرانی عوام کی حمایت کا دعوی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ واشنگٹن دو ہزار سترہ میں ایران میں ہوئے بدامنی کے واقعات اور بلوائیوں کا حامی رہا ہے-

انہوں نے ایران کے خلاف ظالمانہ اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم ایران کے مالی ٹرانزیکشن کی راہ میں زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کریں گے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کو امریکی حکام کے اس قسم کے بیانات کے جواب میں کہ وہ ایران کو تیل نہیں فروخت کرنے دیں گے، امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایران ہی پوری تاریخ میں علاقے کے سمندری راستوں کی سلامتی کا ضامن رہا ہے-

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کو بیرون ملک متعین ایرانی سفیروں کی سالانہ کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسٹر ٹرمپ ایران ہی پوری تاریخ میں علاقے کے سمندری راستوں کی سلامتی کا ضامن رہا ہے اور آپ شیر کی دم یا آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ہمیشہ پچھتائیں گے-

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں