اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
روس نے امریکی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں امریکی خواہشات کی پرواہ نہیں کرتا.
خبر کا کوڈ: ۱۷۹۰
تاریخ اشاعت: 23:11 - July 07, 2018

ایران کیساتھ تجارت پر امریکی خواہشات اثر انداز نہیں ہوں گیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، یہ بات روسی وزیر خارجہ "سرگئی لاوروف" نے گزشتہ روز ویانا میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے دسویں اجلاس کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو نظر انداز نہیں ہونا چاہیئے اور تمام فریقین کے مطابق امریکہ کے اس اقدام کا مقصد عالمی جوہری معاہدے کے مفادات کی خلاف ورزی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پالیسی سازش کرنا ہے.

تفصیلات کے مطابق، گزشتہ روز آسٹرین دارالحکومت ویانا میں ایران کی درخواست پر جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے دسویں اجلاس کا انعقاد کیا گیا.

اس اجلاس میں محمد جواد ظریف سمیت یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی، روسی، چینی، جرمن اور فرانسیسی وزرائے خارجہ نے شرکت کی.

مشترکہ کمیشن کا دسواں اجلاس ایران کی درخواست پر منعقد کیا گیا جس کا مقصد جوہری معاہدے کو بچانے کے حوالے سے ایران کے لئے یورپ کی جانب سے پیش کئے جانے والے اقتصادی اور مالیاتی پیکیچ کا جائزہ لینا تھا.

اختتامی اعلامیے کے مطابق، جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے شرکاء نے ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین کو بہتر کرنے، تیل، گیس اور پیٹرو کیمیل مصنوعات کی برآمدات کا سلسلہ جاری رکھنے اور ایران سے مصنوعات کی برآمدات کو مزید بہتر کرنے پر اتفاق کیا گیا.

عالمی طاقتوں نے کہا کہ ایران میں تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کی عملی طور پر حمایت جاری ہے گی جس کا مقصد جوہری معاہدے کو تحفظ فراہم کرنا ہے.

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں