اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ایرانی صدر ''حسن روحانی'' کے دورہ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کو منفی تاثر دینے کے لئے ملک دشمن عناصر اور بدخواہ سرگرم ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایرانی سازش کو بے نقاب کیا ہے.
خبر کا کوڈ: ۱۷۵۷
تاریخ اشاعت: 13:54 - July 03, 2018

ایرانی صدر کا دورہ یورپ، بدخواہوں کا سازش بے نقاب کرنے کا دعویٰمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر روحانی کے یورپی دوروں سے ایران دشمن عناصر کو مجبور کیا ہے کہ وہ اس دورے کو منفی تاثرات دینے کے لئے شیطانی سازش پر کام کریں جس کا ایک اور مقصد جوہری معاہدے کو کمزور اور یورپی ممالک کو مایوس کرنا ہے.

صدر مملکت اس وقت سوئٹزرلینڈ کے دورے پر ہیں جبکہ اسی پیشرفت کے ساتھ ساتھ ملک دشمن عناصر نے منافقین گروپ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک مخصوص نشست کا انعقاد کیا ہے.

اس نام نہاد مشاورتی نشست میں منفی ایجنڈے پر چلنے والے مغربی میڈیا، غیرجمہوری اور آمرانہ نظام کے پیروکار بعض ممالک کے عہدیدار اور سب سے اہم ایران مخالف منافقین کی دہشتگرد تنظیم کے اراکین کے سوا کوئی نہیں تھے.

یہ نشست اتوا کے روز فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں منعقد ہوا جس میں بعض عربی ممالک کے حکام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض وکلا بھی شریک تھے.

ایران مخالف عناصر نے اس نشست کے ذریعے نہ صرف ایران کے خلاف یورپ میں منفی فضا پیدا کرنا تھا بلکہ حیرت کن بات تو یہ ہے کہ ان عناصر نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک ایسی سازش کو بے نقاب کیا ہے جس میں ایران اور ایرانی سفارتکار ملوث تھے.

مغربی میڈیا نے اس نشست کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی سفارتکار کو جرمنی میں گرفتار کیا گیا ہے جس نے منفاقین عناصر کی نشست کو سبوتاژ کرنا تھا. اس بے بنیاد رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی سفارتکار سے تفتیش بھی کیا گیا ہے.

تاہم، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جو اس وقت صدر مملکت کے ہمراہ یورپ کے دورے پر ہیں، مغربی میڈیا کے اس بیہودہ دعوے پر اپنی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتنی انوکھی بات ہے کہ ایرانی صدر کے دورے کے ساتھ ساتھ ایک نام نہاد سازش کو بے نقاب کئے جانے کے دعوت ہورہے ہیں.

ظریف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ بہت دلچسپ بات ہے کہ ایرانی صدر کے دورہ یورپ شروع ہونے کے ساتھ ساتھ ایرانی سازش کو بے نقاب کئے جانے کی ہرزہ سرائی کی جارہی ہے جبکہ ایران ہر طرح کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس نام نہاد سازش سے متعلق تحقیقات کے لئے یورپی حکام کے ساتھ تعاون کے لئے آمادہ ہے تاہم یہ سازش ایک سفاک اور شیطانی منصوبہ بندی کے سوا کچھ نہیں.

دریں اثناء برطانوی اخبار ''گارڈین'' نے اپنے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران مخالف منافقین گروپ اپنے اجرتی حامیوں کے ہمراہ پیرس میں ایک نشست کا انعقاد کیا جبکہ اس نشست میں شریک آدھے سے کم شرکا ایرانی تھے جبکہ دوسرے شرکا یورپ میں پناہ حاصل کرنے والے تھے جنہیں پیسے اور سیر و سیاحت کروانے کے دعوے سے انھیں یہاں لایا گیا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ منافقین کی دہشتگرد تنظیم کے اراکین نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد سے اب تک 17 ہزار ایرانی سویلین، اعلی حکام، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے قتل اور متعدد سفاکانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں.

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں