اپ ڈیٹ: 17 January 2021 - 02:31
دہشتگرد گروہ داعش نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ھدف افغان صدر اشرف غنی تھے۔
خبر کا کوڈ: ۱۷۳۹
تاریخ اشاعت: 12:50 - July 02, 2018

افغان سکھوں پر حملہ، ذمہ داری داعش نے قبول کیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے شہر جلال آباد میں سکھوں کی آبادی پرخودکش حملے میں 10 سکھ باشندوں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق جلال آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں سکھوں کو نشانہ بنایا گیا، حملہ ہوتے ہی سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا جب کہ ریسکیو اداروں نے  زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملہ گورنر ہاؤس کے نزدیک ہوا ۔

افغانستان کے شہر جلال آباد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے ہسپتال کے افتتاح کے چند گھنٹوں بعد ہوا۔ دھماکے کے بعد آسمان پر دھویں کے بادل چھا گئے اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے افغان صدر سے ملنے کے لیے آنے والے سکھ اقلیت کو نشانہ بنایا۔

اطلاعات ہیں کہ سکھوں کا ایک گروپ افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جارہا تھا جو اس وقت صوبے کے دورے پر تھے۔

دوسری جانب جلال آباد دھماکے کی ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرمودی نے مذمت کی۔ نریندر مودی نے افغانستان میں خودکش حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے وہاں کے کثیر ثقافتی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں رہنے والے سکھوں پر ہونے والا یہ حملہ گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں