اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
سپاہ پاسداران کے نائب سربراہ نے پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی پاکستان کو اپنے چالیس سالہ دفاعی تجربات منتقل کرنے کیلئے تیار ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۷۲۴
تاریخ اشاعت: 23:22 - June 30, 2018

سپاہ پاسداران اپنے دفاعی تجربات پاکستان منتقل کرنے کیلئے تیار ہے، جنرل حسین سلامیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے نائب سربراہ جنرل حسین سلامی نے پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران پاکستان کو اپنے چالیس سالہ دفاعی تجربات منتقل کرنے کو تیار ہے۔

تہران میں پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر سے ملاقات میں سپاہ پاسداران کے نائب سربراہ نے مشورہ دیا کہ ایران 40 سالہ مزاحمتی تجربات کا حامل ملک ہے جبکہ پاکستان بھی جاری دہشت گردی پر عوامی رضاکار فورسز کے توسط سے قابو پاسکتا ہے۔

پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب سربراہ جنرل حسین سلامی نے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں جنرل حسین سلامی نے نے پاک ایران کی لازوال دوستی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی کے رشتے گہرے اور نہایت مضبوط ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے مذہبی، عقیدتی، سماجی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سےامت مسلمہ اور خطے کے ملکوں کے خلاف دشمنوں کی سازشوں اور خباثتوں کے باوجود ایران اور پاکستان کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب سربراہ نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک اور قوموں کو کسی نہ کسی طرح سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کے مقابلے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے اور اپنے دفاعی اور عوامی مزاحمتی تجربات پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔

حسین سلامی نے پاک فوج کی یمن جنگ میں عدم مداخلت کی تعریف کرتے ہوئے کہا پاک فوج نے یمن جنگ میں دخل اندازی نہ کرنے کا فیصلہ کرکے داشمندی کا ثبوت دیا ہے۔

انہوں نے عراق اور شام میں داعشی دہشت گردوں کی ذلت آمیز شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے داعش کی نابودی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جنرل حسین سلامی نے پاک ایران سرحد پر دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تکفیری دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے تجربات پاک فوج کو منتقل کرنے پر تیار ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے حسین سلامی سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران سرحد کو مشترکہ دشمن سے خطرات لاحق ہیں اور دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جائے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں