اپ ڈیٹ: 16 September 2021 - 17:43
اسرائیلی صحافی کی نئی کتاب میں فلسطین کے رہنما یاسرعرفات کو قتل کرنے کی اسرائیلی سازشوں سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۱۴۳
تاریخ اشاعت: 10:25 - January 25, 2018

یاسرعرفات کے قتل سے متعلق سنسنی خیزانکشافاتمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی صحافی رونین برگ مین کی نئی آنے والی کتاب کے مطابق نومبر 1982 سے جنوری 1983 تک اسرائیل کے4 ایف 15 لڑاکا طیارے عرفات کے جہاز کو اڑانے کے لیے اسٹینڈ بائی رہے۔

اسرائیل نے یاسر عرفات کو مسافر طیارے میں تباہ کرنے کی متعدد بار کوششیں کیں اور اسرائیلی سمجھتے تھے کہ عرفات کے خاتمے سے فلسطینی ریاست کا خاتمہ ہوگا۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی اطلاعات پر ان طیاروں نے5 بار مختلف مسافر طیاروں کی جانب اڑان بھری جبکہ ایک مرتبہ بوئنگ 707 انتہائی قریب پہنچ کر کمیونیکشن میں خلل ڈالا تاہم ہر بارعرفات کی موجودگی یقینی نہ ہونے پر لڑاکا طیاروں کا رخ موڑ دیا گیا۔

اس کے علاوہ ایتھنز ائیرپورٹ پر بھی اسرائیلی انٹیلی جنس نے عرفات کو نشانہ بنانا چاہا تاہم ناکام رہی جبکہ ایک اسرائیلی صحافی یوری انویری کو بھی عرفات کے انٹرویو کے دوران مارنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن یاسرعرفات کی فراست اور چھٹی حس نے دونوں کو بچا لیا۔

فلسطینی کمیٹی کے سربراہ جنرل توفیق الطیراوی نے اس سے قبل کہا تھا کہ تحقیقات سے یاسر عرفات کے قتل میں صیہونی حکومت کا ہاتھ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس قتل کی بقیہ تفصیلات کے انکشاف کی صرف ایک کڑی رہ گئی ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

فلسطینی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کا یہ بیان ایسی حالت میں آیا ہے کہ یاسرعرفات کی موت کو12 سال گزرجانے کے بعد اب بھی اس سلسلے میں پائے جانے والے بہت سے ابہامات دور نہیں ہو سکے ہیں ۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں