اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کو انجام تک پہنچانے کا جہاں اعلان کیا ہے وہیں پاکستان کے چیف جسٹس نے شیعہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۳۴۶
تاریخ اشاعت: 21:44 - May 02, 2018

شیعہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کوانجام تک پہنچانے کا اعلانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں  شیعہ ہزارہ برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، سدرن کمانڈر بھی ہمراہ تھے۔ ہزارہ براری کے نمائندوں نے ٹارگٹ کلنگ پر تحفظات کا اظہار کیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ عزیزوں کے نقصان کا مداوا کسی بھی طرح ممکن نہیں، شیعہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا، ہزارہ برادری کے ہر فرد کی ہلاکت ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔

پاکستانی کے آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے بہت سے دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کر دیا ہے، ان دہشت گردگروپوں کو دشمن ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے ہم پہلے مسلمان ہیں پھر کچھ اور، مذہب،مسلک،زبان اور برادری کی تفریق کے بغیر ہر پاکستانی دشمن کے خلاف متحد ہے، ہمیں قومی اتحاد سے دشمن کے عزائم کو شکست دینا ہے، پاکستان کی سلامتی کے لئے پر اقدام اٹھایا جائے گا۔

شیعہ ہزارہ برادری نے پاک فوج پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

دوسری جانب چیف جسٹس  آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے آج صبح کوئٹہ میں  شیعہ ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے  شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے قتل کے معاملے پرازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ میں کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری سے مل کرآیا تھا، وہاں ان کا قتل ہورہا ہے، یہ لوگوں کی زندگی کا معاملہ ہے، شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کے بچے تعلیمی اداروں میں نہیں جا سکتے۔

چیف جسٹس نے بلوچستان حکومت، لیویز، پولیس اوروزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا کس کا کام ہے اورکیا شیعہ ہزارہ برادری پاکستانی نہیں ہے، حکومت ہزارہ کمیونٹی کے لیے کیا کر رہی ہے، کیا سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کا کام نہیں ہے جب کہ ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث افراد کھلے عام جلسے کررہے ہیں۔ کیس کی سماعت 10 مئی کے بعد ہوگی۔

واضح رہے کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف دھرنے میں بیٹھے شیعہ ہزارہ برادری کے مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ آرمی چیف ان سے ملاقات کریں اور ہمارے مطالبات سنیں۔ آرمی چیف کی ملاقات کے بعد کل رات شیعہ ہزارہ برادری نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں