اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
ہندوستان کی مرکزی حکومت کی کابینہ نے بارہ سال سے کم عمر بچیوں کی عصمت دری کرنے والے مجرم کو پھانسی دے دئے جانے کے مجوزہ بل کی منظوری دے دی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۲۹۱
تاریخ اشاعت: 22:39 - April 22, 2018

ہندوستان میں کم عمر بچیوں کی آبرو ریزی کرنے والے کو موت کی سزامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں پی او سی ایس او پوسکو ایکٹ میں ترمیم کرکے بارہ سال سے کم عمر کی بچیوں سے زیادتی اور ان کی عصمت دری کرنے والے مجرم کو پھانسی کی سزا دینے کی تجویز منظور کرلی گئی ہے -

حکومت اب اس کے لئے پارلیمنٹ میں بل پیش کرے گي - اس سے پہلے خواتین اور بچوں کی بہبود کے امور کی وزیر مینکا گاندھی نے کہا تھا کہ کٹھوا اور اترپردیش کے ضلع اناؤ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں میں بچیوں کی عصمت دری کے واقعات سے وہ بہت صدمے میں ہیں اور ان کی وزارت اس طرح کے مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے لئے ایک قانون پاس کرائے گی -

ابھی پوسکوایکٹ میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید کی تھی - واضح رہے کہ جموں کے علاقے کٹھوا میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اور پھر بے دردی کے ساتھ اس کو قتل کردئے جانے کے ہولناک واقعے کے بعدایسے جرم کے خلاف پھانسی کی ‎سزا کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا -

حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے بھی ٹوئیٹ کرکے وزیراعظم کی توجہ اس جانب دلائی تھی اور انہوں نے بھی اس مجوزہ قانون کی حمایت کی تھی -

کٹھوا اور اناؤ کے واقعات پر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے اور احتجاج کا یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے - ان واقعات کو لے کر مختلف جماعتوں اور تنطیموں نے مرکز میں برسراقتدار حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ کٹھوا اور اناؤ کے واقعات میں مبینہ طور پر پارٹی کے کارکن یا تو شامل رہے ہيں یا پھر مجرموں کے لئے پارٹی کارکنوں کی حمایت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں -

پیغام کا اختتام/
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں