اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ جوہری معاہدہ ایک مکمل بین الاقوامی دستاویز ہے اور اس پر دوبارہ مذاکرات کسی بھی صورتحال میں ناممکن ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۱۲۹
تاریخ اشاعت: 21:01 - January 24, 2018

جوہری معاہدے کے دوبارہ جائزے کی باتیں امریکی صدر کا وہم ہےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے حالیہ اقدامات اور سرگرمیوں پرکہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے میں ایران کے مطالبات پر کم توجہ دی گئی۔


ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ کی وعدہ خلافیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران اپنے وعدوں پر مکمل طور پرعمل کر رہا ہے امریکہ اور یورپ نے اقتصادی حوالے سے اپنے وعدوں پر تاحال عمل نہیں کیا ہے جبکہ جوہری معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کی باتیں در اصل امریکی صدر کا وہم اور ان کی غلط سوچ کا نتیجہ ہیں۔


علی شمخانی نے اس گفتگو میں ایران کے میزائلی پروگرام اور توانائی کے بارے میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام ملکی سطح کا ہے اور یہ تجربہ ہمیں آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران ہوا کہ کس طرح جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے دفاعی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔


ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ ایران کے حکام کا مشترکہ طور پر یہ فیصلہ ہے کہ ایران کے دفاعی اور میزائلی پروگرام پر کسی بھی ملک کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی۔


علی شمخانی کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایران کا کردار اور اقدامات کسی بھی طور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی نہیں ہیں اور امریکہ کی جانب سے ایران کے مثبت اقدامات کوغلط رنگ دینے کی کوششیں در اصل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کا نتیجہ ہیں اس لئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی دہشتگردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں