اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
بین الاقوامی امور میں رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ استقامتی محاذ کا دائرہ اب ایران فلسطین، شام اور عراق کی سرحدوں سے بھی زیادہ وسیع ہوگیا ہے اور بہت جلد یمن بھی اس محاذ میں شامل ہوجائے گا۔
خبر کا کوڈ: ۱۲۶۵
تاریخ اشاعت: 23:28 - April 20, 2018

یمن بھی جلد ہی استقامتی محاذ میں شامل ہوجائےگامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور میں رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبرولایتی نے قرآن کریم کے بین الاقوامی مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ ایک زمانے میں امریکی حکام یہ سمجھ رہے تھے کہ شام کا کام ایک ہفتے میں تمام کردیں گے لیکن آج وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ملکوں کی طاقت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ملکوں پر قبضہ اور انہیں تقسیم کرنا دشمنوں کا مقصد ہے اور اگر عراق اور شام کے لئے ایران کی حمایت نہ ہوتی تو ان ملکوں پر قبضہ کرلیا جاتا۔

ڈاکٹرولایتی نے کہا کہ اگر سعودی عرب نے یمن کا پیچھا نہ چھوڑا اور اپنی پالیسیوں سے دستبردار نہ ہوا تو یقینی طور پر یمن سعودی عرب کے لئے ایک خطرناک دلدل میں تبدیل ہوجائے گا اور جنگ ویتنام میں امریکا کی طرح سعودی حکام بھی یمن کے دلدل میں غرق ہوجائیں گے۔

بین الاقوامی امور میں رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علاقے میں ایران کا موقف یہ ہے کہ سبھی مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ امت واحدہ اسلامیہ تشکیل دے کہا کہ ایران علاقے میں استقامتی محاذ کے علمبردار کی حیثیت سے اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ سرحدوں میں تبدیلی کی جائے بلکہ اس کا حتمی موقف یہ ہے کہ ہرملک کی ارضی سالمیت محفوظ رہنی چاہئے۔

قرآن کریم کے پینتیسویں بین الاقوامی مقابلے جمعرات کی شام تہران میں امام خمینی عیدگاہ میں اعلی سول اور فوجی عہدیداروں کی موجودگی میں شروع ہوگئے، ان مقابلوں میں دنیا کے چوراسی ملکوں کے تین سو ستر حافظ اور قاری شریک ہیں۔ 

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: