اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہرکوئٹہ میں شیعہ ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کا احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۰۸۶
تاریخ اشاعت: 23:45 - April 08, 2018

پاکستان، کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ قوم کا دھرنا آٹھویں روز بھی جاریمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، احتجاجی دھرنا تکفیری دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور اور مجموعی طور پر پورے شہر میں دہشتگردی کے واقعات کے خلاف شہداء چوک علمدار روڈ پر دیا گیا ہے۔

احتجاجی دھرنے کو متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر مقامی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

احتجاجی دھرنے سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ شہر میں جگہ جگہ سکیورٹی فورسز کی درجنوں چیک پوسٹوں کے باوجود دہشتگردی کے واقعات ہونا، ریاستی رٹ پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات صرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے پیش کریں گے اور ان کے آنے تک دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا، کیونکہ بلوچستان میں‌ اصل مسئلہ امن و امان کا نہیں بلکہ داخلی سکیورٹی کا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ احتجاجی دھرنے کو بہت جلد علمدار روڈ سے کوئٹہ کے مرکزی بازار میزان چوک پر منتقل کیا جائے گا۔

دوسری جانب لاہور میں داتا دربار کے باہر جاری تحریک لبیک یارسول اللہ کا دھرنا بھی جاری ہے۔ تحریک کے سربراہ خادم حسین رضوی کا کہنا ہے کہ حکومت  کو مزید 12 اپریل تک کی ڈیڈلائن دیتے ہیں، 12 اپریل تک ہمارے مطالبات منظور نہ ہوئے تو پھر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ادھر داتا دربار کے باہر تحریک لبیک کے جاری دھرنے کے باعث داتا دربار، راوی پل، سگیاں پل، شاہدرہ جی ٹی روڈ، لاری اڈہ، ریلوے سٹیشن، کچہری چوک، بند روڈ، موہنی روڈ کے علاقے میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر رہا، جس سے داتا دربار کی طرف آنے اور راوی پار جانیوالے افراد کو خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں