اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
سال 2017 کے دوران پاکستان بھر میں رونما ہونے والے اہم واقعات کا مختصر جائزہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔
خبر کا کوڈ: ۶
تاریخ اشاعت: 21:18 - January 01, 2018

سال 2017: پاکستان کے اہم واقعات پر ایک نظر/ پاک ایران تعلقات میں اہم پیشرفتمقدس دفاع نیوز ایجنسی بین الاقوامی رپورٹر سال 2017 میں رونما ہونے والے اہم واقعات کا خلاصہ پیش کرتا ہے؛

اہم غیر ملکی شخصیات کی آمد

سال 2017 میں کئی اہم غیر ملکی شخصیات نے پاکستان کا دورہ کیا ۔لندن کے میئر صادق خان 6 روزہ سرکاری دورے پر 6 دسمبر کو واہگہ کے راستے پاکستان آئے ۔7 دسمبر کو اسماعیلی فرقے کے رہنما پرنس کریم آغا خان 13 روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے ۔ اس سے قبل 15 ستمبر کو داو ¿دی بوہرہ فرقہ کے مذہبی رہنما ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین محرم الحرام کے عشرہ اول کی مجالس کیلئے کراچی تشریف لائے۔ مجالس میں پوری دنیا سے بوہرہ جماعت کے25 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ اہم شخصیات کے دورے اور عوامی سطح کے پروگراموں میں شرکت کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے امیج میں بہتری آئی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ناامنی کی صورتحا ل اور تاثر کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

آرمی چیف کا دوہ ایران:

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے نومبر 2017 میںتہران کا 3 روزہ سرکاری دورہ کیا ۔جس میں انہوں نے ایران کے سول اور فوجی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔ پاکستانی اور ایرانی حکا م کے مطابق آرمی چیف کے دورہ تہران سے دونوں ممالک کے تعلقات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ دو دہائیوں کے بعد یہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کا ایران کا پہلا دورہ تھا ۔ اس سے قبل سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم میاںمحمد نواز شریف کے ہمراہ ایران کا دورہ کیا تھا جبکہ 2000 میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے تہران میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کی تھی ۔

پاک ایران تعلقات:

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے فروری 2017میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کا دورہ کیا ۔دورے میں انہوں نے وزیر اعظم سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں۔ مزید یہ کہ دسمبر 2017میں پارلیمانی اسپیکر کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے پاکستان کا 3روزہ دورہ کیا۔ دورہ اسلام آباد میں ایرانی اسپیکر نے پاکستانی ہم منصب ایاز صادق سمیت دیگراعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادر اسلامی ممالک ہونے کی وجہ سے ایک ایسا تعلق پایا جاتا ہے جو دن بدن مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ تہران اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات رسمی او ر محض سفارتی سطح پر استوار نہیں ہیں بلکہ ان تعلقات کی جڑیں دونوں قوموں کی ثقافت اور مذہبی اقدار پر استوار ہیں۔

پاک بھارت تعلقات:

پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے 2017 میں بھی تعلقات اور بات چیت تعطل کا شکار رہی تاہم سال کے آخری مہینے میں پاکستان نے انسانی حقوق کی بنیادوں پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی ان کی اہلیہ اور ماں سے ملاقات کو یقینی بنا کر بھارت پر اخلاقی برتری حاصل کرلی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مار چ 2016 کو حساس اداروں نے بلوچستان سے حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں فوجی عدالت سے 10 اپریل 2017 کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔خیال رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور سزا ءپر اسلام آباد اور نئی دلی کے درمیان سخت تناو پایا جاتا ہے۔

پاک امریکا تعلقات:

اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان 2017 میں بھی تعلقات میں کھچاو ¿ رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ۔امریکا کی جانب سے ڈو مو ر کی گردان ، حقانی نیٹ ورک کو محفو ظ پناہ گاہیں دینے کے الزامات تو دوسری جانب پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ناکامی کا ملبہ اسلام آباد پر ڈالنے کے الزامات سامنے آئے ۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں پڑوسی ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرلینا چاہئے تاکہ آئندہ کے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کیا جاسکے ،وقت اب بدل چکا ہے اور پاکستان کو اب یہ خواہش نہیں رکھنی چاہئے کہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات میں پاکستان کی بقاءاور سلامتی ہے۔

پانامہ کیس اور نواز شریف کی نااہلی:

پاکستان میں تقریباً ایک برس قبل پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آئے اور اس وقت سے یہ معاملہ ملک کے سیاسی منظر نامے میں چھایا رہا۔ پاناما لیکس پر حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سامنے آیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کردیا اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا اور کئی ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد بالآخر عدالت عظمی نے 28 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ عدالت کے فیصلے نے ملک میں سیاسی ہلچل مچادی ۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم کیلئے نامزد کردیا تاہم ان کے وزارت عظمی ٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے اب تک ملک روز بروز سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی بحران کے پیچھے حکمران جماعت ہی کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ یہ ثابت کرنا چاہ رہی ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے نے نے ملک کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی بحالی:

ملک کی 5 بڑی دینی جماعتوں نے آئندہ الیکشن (2018) متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کتاب کے نشان پر لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔اتحاد میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) ، جمعیت علمائے پاکستان،مرکزی جمعیت اہلحدیث اور اسلامی تحریک پاکستان(علامہ سید ساجد علی نقوی) شامل ہیں۔خیال رہے کہ ایم ایم اے کا قیام سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت ( 2002) میں عمل میں آیا تھا۔

لاپتہ شیعہ نوجوانوں کا مسئلہ:

پاکستان میں گذشتہ چند سالوں کے درمیان 100 سے زائد شیعہ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ ملی تنظیموں کی جانب سے2017 میںاس اہم مسئلہ پر کافی جنبش نظر آئی۔حکومت اور ریاستی اداروں کی اس اہم مسئلہ کی جانب توجہ دلانے کیلئے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی سمیت دیگر رہنماوں نے بھوک ہڑتال اور جیل بھرو تحریک تک کا آغاز کیا ۔اس اہم مسئلے کی بازگشت ایوان بالا سینیٹ میں بھی سنائی دی گئی ۔ ملی تنظیموں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے اگر ان کے پیاروں کا کوئی قصور ہے تو انہیں قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا جائے اور سزادی جائے بصورت دیگر بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو فوری رہا کیا جائے ۔

ناصر شیرازی کی گمشدگی ورہائی:

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر عباس شیرازی کو یکم نومبر کولاہور کے علاقے واپڈا ٹاو ¿ن سے ایلیٹ فورس کے اہلکار غیر قانونی طور پرحراست میںلے گئے تھے اور بعد ازاں انہیں2 دسمبر کو رہا کیا گیا ۔ واضح رہے کہ ناصر عباس شیرازی نے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رانا ثناءاللہ نے سانحہ ماڈل ٹاو ¿ن کی رپورٹ کے تناظر میںاپنے بیانات سے عدلیہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔

دہشت گردی کے واقعات:

سال 2017 میں بھی پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا۔ سال کا پہلا دہشت گردی کا واقعہ 21 جنوری کو کرم ایجنسی کے دارالحکومت پارا چنار میں پیش آیا،عید گاہ مارکیٹ میں بم دھماکے کے نتیجے میں25 سے زائد افراد شہید اور60 زخمی ہوگئے ۔13 فروری کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر دھماکے میں سینئر پولیس افسر سمیت 14 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ 16 فروری کو سیہون شریف میںلال شہبار قلندرکی درگاہ کے احاطے میں بم دھماکے کے نتیجے میں 90 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ 31 مارچ کو ایک بار پھر دہشت گردوں نے پارہ چنار کو خون میں نہلا دیا۔ مرکزی بازار میں واقع امام بارگاہ کے باہر دھماکے میںکم از کم 24 افراد شہید اور 100 زخمی ہوگئے۔ 5 اپریل کو ایک بار پھر دہشت گردوں نے لاہور کو نشانہ بنایا۔ اس بار دہشت گردوں نے بیدیاں روڈ پر مردم شماری کی ٹیم کو نشانہ بنایا جس میں پاک فوج کے4 جوانوں سمیت 6 افراد شہید ہوگئے ۔25 اپریل کو کرم ایجنسی میں مسافر وین کے قریب دھماکے سے بچوں اور عورتوں سمیت 14 افراد جاں بحق ہوگئے ۔12 مئی کو دہشت گردو ںنے بلوچستان کے علاقے مستونگ میںڈپٹی چیئر مین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری کی گاڑی کو نشانہ بنایاتاہم مولانا حملے میں بال بال بچ گئے، حملے میں 25 افراد جان کی بازی ہار گئے اور تقریبا 35افراد زخمی ہوئے ۔23 جون کو سفاک دہشت گردو ں نے ایک بار پھر پارا چنار کا رخ کیا اور طوری بازار میں 2 بم دھماکوں کے نتیجے میں45 افراد شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے ۔خیال رہے کہ واقعہ رمضان المبار ک کے آخری جمعے کو پیش آیا جب مقامی افراد عید کی خریداری میں مصروف تھے اور یوں پارا چنا رمیں خوشیوں کا دن سوگ میں تبدیل ہو گیا ۔مزید یہ کہ شہدا ءکے لواحقین کی داد رسی کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پارا چنار پہنچے اوریوں8 روز سے جاری دھرنا ختم ہوا ۔24 جولائی کو ملک دشمن دہشت گردو ں نے لاہور کو نشانہ بنایا ۔فیروز پور روڈ پر بم دھماکے میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد جان کی بازی ہار گئے اور تقریبا 58افراد زخمی ہوئے ۔13 اگست یعنی یوم آزادی سے ایک دن قبل وطن دشمن عنا صر نے کو ئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں8 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید اور 25 زخمی ہوگئے ۔5 اکتوبر کو بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں فتح پور درگاہ پر حملے کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے ۔24 نومبر کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں پولیس کی گاڑی کے قریب خود کش دھماکے میں ایڈیشنل آئی جی سمیت 2 افراد شہید اور6 زخمی ہوگئے ۔سال کے آخری مہینے کی پہلی تاریخ کو پشاورمیں ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر حملے میں 9 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ۔سال 2017 کا آخری دہشت گردی کا واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا جب دہشت گردوں نے کرسمس سے قبل مسیحی برادی کو نشانہ بنایا۔چرچ پر حملے کے نتیجے میں9 افراد جاںبحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ۔یوں پاکستان میں سال 2017 میں بھی دہشت گردی کے متعدد چھوٹے بڑے واقعات میں سینکڑو ں بیگناہ افراد جان کی بازی ہار گئے اور متعدد خاندان اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے ۔دہشت گردی کے واقعات کے بعد بر وقت طبی امداد کی عدم فراہمی بھی کئی افراد کیلئے جان لیوا ثابت ہوئی ۔خاص طور پر پارا چنار اور سیہون شریف دھماکے کے کئی زخمی فوری اور بہتر طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث دم توڑ گئے ۔

شیعہ ٹارگٹ کلنگ:

سال2017 میں پارا چنا ر میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات میں سینکڑوں شیعہ مسلمان زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ دوسری جانب پشاور، کراچی ، کوئٹہ ، اسلام آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات میں درجنوں افراد شہید ہوئے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بم دھماکو ں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر347 افراد شہید ہوئے ۔اعداد و شمار کے مطابق سال2016 میں کل 61افراددہشت گردی کا نشانہ بنے تھے جبکہ2015 میں یہ تعداد 256 تھی ۔15 فروری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایم ڈبلیو ایم کے جنرل سیکریٹر ی علامہ تصور جوادی پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ اور ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ 29 نومبر کو دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے G-6میں دہشت گردوں کے امام بارگاہ پر حملے کے نتیجے میں سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور مجلس وحدت مسلمین کے مشیر قانون سید سیدین زیدی شہید ہوگئے ۔ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کراچی میں6، کوئٹہ میں 15، گلگت میں1، ملتان میں 1، سیالکوٹ میں1، ڈی آئی خان میں3، لاہور میں1 ، پشاور میں3 اور اسلام آباد میں 2 افراد شہید ہوئے ۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں