اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۴۳۰
تاریخ اشاعت: 15:58 - February 23, 2018

سعودی عرب میں مخالفین پر دباؤ ڈالنے کا نیا طریقہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹر نیشنل نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ سعودی عرب میں جب سے محمد بن سلمان ولیعہد بنے ہیں حکومت مخالفین پر دباؤ شدید بڑھا دیا گیا ہے تاہم سعودی عرب میں کھلا ماحول کا ڈرامہ رچا کر اس ملک کی صورت حال پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں انفرادی و عمومی آزادی کے امور کے عہدیدار کٹیارو نے پیرس میں اس تنظیم کی دو ہزار اٹھارہ کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سعودی عرب میں آزادی دکھاوا کرنے کے لئے اصلات کا اعلان کر رہے ہیں لیکن ہماری نظر میں اصلاحات کا ایک نمونہ عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا تھا اور اس سے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی ہونے والی خلاف ورزیوں کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی۔

انھوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کو وہاں سماجی اور سول سوسائٹی پر دباؤ ڈالنے کے عمل پر پردہ ڈالنے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس ملک میں سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس عہدیدار کے مطابق مثال کے طور پر دو ہزار چودہ کے قانون کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مہم کے لئے وضع کیا جانے والا نیا قانون دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ قانون شہری سوسائٹیوں کی سرکوبی کے لئے عمل میں لائے جانے والے اقدام کے دائرے میں تیار کیا گیا جیساکہ شہری و انسانی حقوق کی بیشتر تنظیموں کو ختم کر دیا گیا اور ان تنظیموں کے اراکین جیلوں میں بند ہیں اور ان پر مختلف طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

یمن کے خلاف جنگ کے دائرے میں سعودی جرائم و جارحیت کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل میں مسلح جھڑپوں کے شعبے کی سربراہ نینا والش نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ کا تاوان عام شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ انسانی حقوق کی صورت حال کا ایک المیہ ہے اور اس سے بھی بدتر یہ کہ اس ملک کا مکمل محاصرہ جاری ہے جبکہ سعودی اتحاد کی جانب سے عام شہریوں پر حملے ہو رہے ہیں اور اب تک عام شہریوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

انھوں نے حکومت فرانس سے جنگ یمن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کئے جانے کے دائرے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے اس عہدیدار نے کہا کہ ہماری تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب میں امریکہ، برطانیہ اور برازیل کے ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا ہے تاہم اس کا مطلب نہیں نہیں نکل سکتا کہ جنگ یمن میں جرائم کے ارتکاب میں فرانسیسی ہتھیار استعمال نہیں ہوئے ہوں۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ عالمی برادری کی کسی بھی طرح کی روک ٹوک اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے فقدان کے ساتھ انسانیت کے خلاف کھلم کھلا جرائم و جارحیت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔

پیغام کا اختتام/ 

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں