اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لئے اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
خبر کا کوڈ: ۳۸۴۱
تاریخ اشاعت: 20:16 - April 24, 2019

مذاکرات کے تعلق سے امریکہ بالکل ناقابل اعتبار ہے ، ایرانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لئے اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا  کہ امریکی حکام بین الاقوامی قوانین یہاں تک کہ اپنے کئے ہوئے فیصلوں تک کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

انھوں نے اسی طرح سعودی عرب میں سینتیس افراد کا سر قلم کئے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے جرائم کے سلسلے میں امریکہ کی خاموشی قابل مذمت ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے نیویارک پہنچنے پر نامہ نگاروں سے گفتگو میں بین الاقوامی معاہدوں اور سمجھوتوں کی پابندی کو بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کے لئے بہتر یہی ہو گا کہ وہ ایرانیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام اور ان کی پابندی کریں۔

وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایرانی قوم، منھ زور اور جارح حکومت کے مقابلے میں ہرگز سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور وہ دباؤ نیز دھونس و دھمکیوں کے مقابلے میں کبھی نہیں جھکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکیوں کو ایران سے ادب و احترام سے بات کرنا پڑے گی۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے ایران سے تیل کی خریداری کی چھوٹ ختم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، تیل کی خریداری کی چھوٹ اور یا اس کی منسوخی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ کوئی عالمی پولیس مین نہیں ہے جو کسی کو چھوٹ دے یا چھوٹ ختم کرے۔انھوں نے مشرق وسطی میں امریکہ کے تباہ کن اور اشتعال انگیز اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات جیسے اس کے اتحادی ممالک علاقے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان حوالہ دیتے ہوئے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے علاقے میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے جبکہ اس کے اس اقدام سے علاقے میں بدامنی و جانی نقصان کے علاوہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، کہا کہ امریکیوں کو چاہئے کہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور معمول  کا رویہ اختیار کریں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسی طرح سعودی عرب میں سینتیس افراد کے سر قلم کئے جانےاور سعودی جارحیت پر امریکی خاموشی کی بھی مذمت کی۔انھوں نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ایک صحافی کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے چشم پوشی کے بعد ایک ہی دن میں سعودی عرب میں سینتیس افراد کے سر تن سے جدا کئے جانے پر امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے کسی بھی قسم کا کوئی رد عمل نہیں دکھایا۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ جان بولٹن کی ٹیم میں شامل، بن سلمان، بن زاید اور نتن یاہو کو ہرقسم کے مجرمانہ جرائم انجام دینے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے منگل کے روز سینتیس سعودی شہریوں پر نام نہاد دہشت گردی کے الزام میں پھانسی دے دی- 

سعودی عرب کی آل سعود حکومت ہر سال آزادی بیان کا مقابلہ اور دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے بڑی تعداد میں اپنے مخالفین کو سخت سے سخت سزائیں دیتی اور انھیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں دو ہزار اٹھارہ میں ایک سو انچاس افراد کو پھانسی دی گئی۔ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں موت کی سزا پر عمل درآمد کے لئے سرقلم کیا جاتا ہے -

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں