اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
پاکستان کے شہر کوئٹہ کے حالیہ سانحے کے خلاف عوامی دھرنا تین روز سے جاری ہے اور شدید بارشوں کے باوجود سیکڑوں مرد و خواتین اور بچے مغربی بائی پاس پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
خبر کا کوڈ: ۳۸۱۶
تاریخ اشاعت: 16:49 - April 14, 2019

مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلانمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، تین روز سے جاری دھرنے کے شرکا نیشنل ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عمل درآمد کرنے، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی  اور شیعہ کمیونٹی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضمانت دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر سید علی حیدر زیدی نے دھرنے کے منتظمین اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور انہیں حکومت کی جانب سے بعض یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں تاہم دھرنے کے شرکا ان کی یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔

اس سے پہلے صوبے کے وزیر اعلی نے بھی دھرنے کے مقام پر ہزارہ کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تھی تاہم مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز سبزی منڈی میں ہونے والے خودکش دھماکے میں بیس  افراد شہید اور اڑتالیس زخمی ہو گئے تھے۔

دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری طالبان، لشکر جھنگوی اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں نے قبول کی ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: