اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایرانی عوام نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ملک گیر مظاہرے کر کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے اپنی بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔
خبر کا کوڈ: ۳۸۱۱
تاریخ اشاعت: 2:21 - April 13, 2019

امریکی اقدام کے خلاف ملک گیر مظاہرےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملک گیر سطح پر ہونے والے مظاہروں میں شریک لوگ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے ٹرمپ کے احمقانہ فیصلے کی مذمت میں نعرے لگا رہے تھے۔

 پوری قوم پاسدار ہے کہ سلوگن کے تحت ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے اختتام پر ایک قرار داد بھی جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسلامی انقلاب کے تحفظ میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے موثر اور بھرپور کردار نے دشمنوں کو مایوس اور بے بس کر دیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا حکمراں ٹولہ یمن، نائیجیریا، بحرین فلسطین، افغانستان، شام اور عراق کے عوام کے قتل عام سمیت اپنے انسانیت سوز جرائم کے سیاہ ریکارڈ کے ساتھ ، ریاستی دہشت گردی کا کھلا مصداق ہے۔

ایران کے عوام نے اس قرارداد کے ذریعے، سامراجی اور صیہونی طاقتوں کے ظلم و ستم کے شکار ملکوں اور قوموں کی حمایت کو اپنا مذہبی، انقلابی اور انسانی فریضہ قرار دیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ سرزمین فلسطین اور شام کے علاقے جولان کے بارے میں دشمن کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی اقدام نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ عالمی قوانین اور ضابطوں کے بھی منافی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ پیر کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ متحدہ کے منشور کو پامال کرتے ہوئے ایرانی فوج کے ایک اہم ترین حصے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام اس فہرست میں شامل کر دیا جسے واشنگٹن دہشت گرد گروہوں کی فہرست کہتا ہے۔

اس اقدام کے جواب میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے بھی امریکہ کو دہشت گردی کی حامی ریاست اور امریکی فوج کی سینٹرل کمان کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

درایں اثنا امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، امریکہ کے اس اقدام کے جواب میں بہت کچھ کرنے کی توانائی رکھتی ہے۔

فارن پالیس کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد  قرار دیکر ٹرمپ نے امریکی مفادات کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ ساری دنیا میں موجود امریکی شہریوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
امریکی جریدے کے مطابق اگر ایران فوری طور پر خطے میں امریکی فوجیوں کے لیے کشیدگی میں اضافے کا فیصلہ کرلے تو اس کے ہاتھ پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔

فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی، لبنان اور شام میں حزب اللہ اور عراق میں بعض دوسری تنظیموں کے ذریعے امریکہ سے انتقام  لے سکتی ہے۔

امریکی جریدے نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ خطے کے جیو پولیٹکل معاملات میں اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ کشیدگی میں اضافہ اسرائیل اور بعض عرب ملکوں کو بھی معاملات میں الجھا سکتا ہے۔

فارن پالسی کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران کی جانب سے امریکی سینٹرل کمانڈ کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: