اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایران کے صدر نے فرانس کے صدر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سلسلے میں امریکہ کے اقدام کو انتہائی اشتعال انگیز، خطرناک اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نہایت غلط قدم قرار دیا۔
خبر کا کوڈ: ۳۸۰۰
تاریخ اشاعت: 20:10 - April 10, 2019

سپاہ پاسداران نے خطے کو داعش کے شر سے نجات دلائی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج داعش کے دہشت گردوں نے خطے کے دو ملکوں پر قبضہ کر لیا ہوتا۔

اسلامی جمہوریہ ایرانی کے صدر حسن روحانی نے منگل کو اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانو‏ئیل میکرون کی جانب سے کئے جانے والے ٹیلی فونی رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف امریکہ کے حالیہ اقدام کو اشتعال انگیز، خطرناک اور عالمی تعلقات کے لئے بڑا دھچکا قرار دیا۔

ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ خود صہیونی وزیراعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امریکی صدر نے صہیونیوں کی خواہش پر پاسداران انقلاب کو نام نہاد دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہے حالانکہ سپاہ پاسداران نے اپنی قربانیاں پیش کر کے داعش دہشت گرد گروہ سمیت تمام تکفیری دہشت گردوں کو کاری ضرب لگائی۔

انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خطے کو داعش کے شر سے نجات دلائی ہے۔

ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے اب تک چودہ مرتبہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے ایٹمی معاہدے کو نہایت اہم قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل کئے جانے کے باوجود مقابل فریقوں کی جانب سے موثر اقدامات کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔

اس موقع میں فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون نے تہران اور پیرس کے درمیان تعلقات کی مزید توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اور دیگر یورپی فریق، سنجیدگی سے جوہری معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر عمل کریں گے۔

میکرون نے کہا کہ فرانس اور دوسرے یورپی شراکت دار، ایران مخالف پابندیوں میں کمی کے لئے امریکہ سے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔

دریں اثنا ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی اقدام کی حمایت میں سعودی عرب اور بحرین کے مواقف کی مذمت کرتے ہوئے ان ملکوں کے مواقف کو غیر عاقلانہ اور دیگر ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے اور دیگر ملکوں کے قومی اقتدار اعلی کے احترام کے اصول کے منافی قرار دیا۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ ریاض اور منامہ کی جانب سے اعلان کئے جانے والے مواقف علاقے کے حالات کے بارے میں نادرست ادراک اور نتائج سے عدم آگاہی نیز علاقائی امن و استحکام کے خلاف امریکہ کی اسٹریٹیجک غلطی کی حقیقت کو نہ سمجھے جانے کا نتیجہ ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تاکید کے ساتھ کہا کہ علاقے کے بعض ممالک جو اپنے بیرونی آقاؤں کی فرمانبرداری اور غلامی کی زندگی جینے کے عادی ہیں، علاقے اور پوری دنیا میں دہشت گردانہ افکار کو فروغ دیئے جانے کے اصل ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہی وہ ممالک ہیں جنھوں نے حالیہ عشروں کے دوران علاقے میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے اور ان گروہوں کی ہر طرح کی مدد کی ہے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا کہ سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک کی ایسی پوزیشن و اوقات نہیں جو اپنی فریب کارانہ چالوں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس قسم کے مواقف کا اعلان کریں اور وہ اس طرح کے غیر اہم مواقف کا اعلان کر کے علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردی کی ترویج میں اپنی ذمہ داری و کردار کی حقیقت سے عالمی رائے عامہ کو ہرگز گمراہ نہیں کر سکیں گے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے: