اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت ملک کے مفادات کے تحفظ کے لئے ہے جس سے دیگر ملکوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور ایران نے کبھی کسی ملک کو جارحیت کا نشانہ بنانے کا ارادہ تک نہیں کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۶۸۰
تاریخ اشاعت: 15:02 - February 18, 2019

ایران کی طاقت دیگر ملکوں کے لئے خطرہ نہیں، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو غیرعلاقائی طاقتوں کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر بندرعباس میں فاتح آبدوز کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور خطے کے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ علاقائی سمندر کی اہم دفاعی طاقت ہیں جنہیں خطے میں غیرعلاقائی ممالک کی ناجائز موجودگی کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی بحریہ نہ صرف خلیج فارس، بحیرہ عمان، بحر ہند اور کیسپین سی کی امن و سلامتی کا تحفظ کرے گی بلکہ بین الاقوامی سمندر میں ایرانی مفادات اور جہازرانی سے متعلق امن و سلامتی کے تحفظ کیلئے بھی موجود رہے گی۔

صدر ایران نے اس حقیقت پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران کی بحریہ اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے، کہا کہ دشمن کا دباؤ اور پابندیاں اور مسلط کردہ جنگ، اس بات کا موجب بنی ہے کہ ایران دفاعی صنعت خاص طور سے بحریہ کی صنعت نیز بحری جنگی جہاز اور آبدوزیں تیار کرنے میں خودکفیل بنے۔

انھوں نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج بری، بحری اور فضائی شعبوں میں صرف خود پر انحصار کرتا ہے اور نہ صرف حالیہ عشروں بلکہ حالیہ صدیوں میں بھی ایران کبھی اتنا طاقتور نہیں رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے چالیس سال گزرنے کے بعد اب اسلامی جمہوریہ ایران مختلف شعبوں میں خودکفیل ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران علاقے کی بڑی طاقت ہے، کہا کہ ایران اور دوست ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تینوں شعبوں میں ایک مستحکم ترین دفاعی طاقت بن سکتے ہیں اتنی بڑی طاقت کہ علاقے میں بیرونی فوجیوں کی ناجائز موجودگی کی ہرگز کوئی ضرورت ہی محسوس نہ کی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کے ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر بندرعباس میں فاتح آبدوز کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کے ساتھ ہی فاتح نامی ایران کی جدید ترین آبدوز بحریہ میں شامل کر لی گئی۔

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں