اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ علاقے اور دنیا کے ملکوں کے ساتھ دو طرفہ احترام کی بنیاد پر بہتر تعلقات اور مذاکرات کا خواہاں ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۶۲۰
تاریخ اشاعت: 20:59 - February 10, 2019

ایران علاقے کے ملکوں کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات کا خواہشمند ہےمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر  اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ  وہ علاقے اور دنیا کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر آبرومندانہ تعلقات اور تعاون کی برقراری کا خواہش مند ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نہ تو بالادستی قائم کرنے حق میں ہے اور نہ ہی وہ کسی کی تسلط پسندی کو قبول کرتا ہے اور یہی ایران کی سب سے اہم اسٹریٹیجی ہے جسے اس نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز کے بعد سے ہی اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عشرہ فجر یا اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ ایک عالم و مجاہدے کی قیادت میں اس عظیم قوم کی استقامت و پامردی کا جلوہ پیش کرتی ہے جو درخشان ماضی اور بہترین تاریخ اور تہذیب و ثقافت کی حامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب مختلف سماجی، ثقافتی، بین الاقوامی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ایران کے حکومتی ڈھانچے کی از سرنو تشکیل کے لئے برپا ہوا تھا۔

اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل  کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی نے دوحہ میں الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے کے سبھی ملکوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

کمال خرازی نے خطے میں ایران کے کردار، ایرانی انقلاب کی کامیابیوں، افغانستان میں امن، طالبان سے مذاکرات، قطر کے ساتھ تعلقات اور یمن اور شام سمیت خطے کے ممالک کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ  چالیس برسوں کے دوران  دشمن کے مختلف عزائم اور سازشوں کو ناکام بنانے کر مختلف شعبوں میں نمایان کامیابیاں حاصل کیں اور اس وقت ایران خطے کا سب سے زیادہ مستحکم اور پرامن ملک ہے۔

ایران کے اعلی سفارتکاراور سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ مستقبل میں ایران اور قطر کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

ایران کی خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ  نے دوسرے ممالک کی طرف سے عائد کردہ  پابندیوں کے مقابلے میں قطر کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت کی مخالفت اور قطر کی حکومت کے موقف کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے علاقے میں ایرانو فوبیا پھیلانے کے مقصد سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بعض ملکوں کے حکام کی حالیہ نفسیاتی جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایرانو فوبیا پھیلانے کی وجہ سے بعض عرب ملکوں کی دولت و ثروت کو لوٹا جارہا ہے اور ان ملکوں کے تعلقات  کو صیہونی حکومت کے ساتھ بحال اور مستحکم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر کمال خرازی نے کہا کہ امریکا سعودی حکومت کی حمایت اس لئے کررہا ہے کیونکہ اسے سعودی عرب کی دولت کی  چاہئے اور اس نے بلاوجہ  چار سو ارب ڈالر ریاض سے وصول کئے ہیں۔ انہوں نے علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی اور معنوی اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج ایران  بہت سے عرب اور غیر عرب ملکوں کے لئے مثال اور آئیڈیل بن چکا ہے کیونکہ ایران نے اغیار کی حمایت کے بغیر شاندار ترقی وپیشرفت  کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے عراق اور شام کی درخواست پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان ملکوں کی مدد کی ہے۔

ڈاکٹر کمال خرازی نے حزب اللہ کے لئے ایران کی حمایت کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایران حزب اللہ کی حمایت اس لئے کرتا ہے کیونکہ وہ غاصبوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور حزب اللہ کی استقامت و جد وجہد کے نتیجے میں ہی صیہونی حکومت کو لبنان سے نکلنا پڑا۔

پیغام کا اختتام/

 
 
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں