اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایک ایسے وقت میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایمیگریشن قوانین کے منفی اثرات اور اس کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کو خاطر میں لائے بغیر، پیغمبر امن و رحمت حضرت عیسی علیہ السلام کے ایام ولادت باسعادت کا جشن منانے میں سرگرم اور اپنے رشتہ داروں اور دنیا کے مختلف ملکوں کے حکمرانوں کو تہنیتی پیغامات ارسال کرنے میں مصروف ہیں کہ تارکین وطن کے خلاف ان کا صدارتی فرمان بدستور بے گناہوں کی جانیں لے رہا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۲۷۷
تاریخ اشاعت: 23:32 - December 26, 2018

امریکی صدر ٹرمپ کے متضاد اقداماتمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے ایمیگریشن احکامات کے بارے میں زبردست بحث جاری ہے کیونکہ تارکین وطن کے کمسن اور بے گناہ بچے امریکی صدر کے اس فرمان کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

نئے سال کے آغاز کے موقع پر گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والی کم سن بچی جیکلین کال کی موت جو اپنے والدین کے ہمراہ امریکہ میں داخل ہوئی تھی، امریکی بارڈر سیکورٹی فورس کے قائم کردہ کیمپوں میں بھوک اور بیماری سے ہونے والی دوسری موت ہے۔

گزشتہ پیر کو بھی گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والا ایک آٹھ سالہ بچہ امریکی سرحدوں پر قائم کیے جانے والے خصوصی حراستی کیمپ میں بھوک اور بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا تھا۔

ڈاکٹروں نے، ڈی ہائڈریشن، ہائی فیور، مننجائٹس اور شدید اسٹرس کو ان بچوں کی موت کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔

امریکہ اور میکسیکو کے سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بار بار کے انتباہات کے باوجود ونیز ویلا اور گوئٹے مالا سمیت لاطینی امریکہ کے بہت سے ملکوں کے لوگ ابتر معاشی صورتحال کی وجہ سے، انسانی اسمگلروں کی مدد سے، بھوک اور پیاس کی سختیاں برداشت کر کے امریکی سرحدوں سے ٹیکساس، اریزونا اور نیو میکسیکو میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن مسٹر ٹرمپ نے ملک کی جنوبی سرحدوں سے مہاجرین کا داخلہ روکنے کے صدارتی فرمان پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ فرمان در اصل ٹرمپ کے جاری کردہ اسی آرڈی نینس کا حصہ ہے جو انہوں نے میکسیکو کی سرحدوں سے تارکین وطن کی آمد کے خلاف جاری کیا تھا۔

ٹرمپ کے جاری کردہ نئے امیگریشن قوانین اور تارکین وطن کے حوالے سے ان کی ظالمانہ پالیسی کی اندرون اور بیرون امریکہ شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔
ساونڈ بائٹ

یہ ایک المیہ ہے، نئے سال کے آغاز پر دو مہاجر بچوں کی موت واقع ہوگئی ہے، اپنے والدین کے ہمراہ ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے امریکہ آنے والے بچوں کے ساتھ سرحدوں پر کیا ہو رہا ہے؟ یہ بچے ہائی فیور اور بے مننجائٹس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ دو بچوں کا مرنا کوئی معمولی بات نہیں، لیکن تارکین وطن اور ان کے بچوں کے لیے حالات بدستور خراب ہیں، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پارلیمنٹ شیلا جیکسن لی نے دو مہاجر بچوں کی موت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ، امریکہ کی سرحدوں پر کیا ہو رہا ہے، یہ صورتحال ظالمانہ ہے۔

پنجرے میں قید بچوں کی تصاویر جاری ہونے کے بعد ٹرمپ کی تارکین وطن مخالف پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والے شدید اعتراضات، بظاہر اس قانون کی معطلی پر منتج ہوئے تھے لیکن گوئٹے مالا سے تعلق رکھنے والے دو کم سن بچوں کی موت سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن مخالف پالیسی کو معطل کرنے کا اعلان محض ڈھونگ تھا۔

تارکین وطن کے حوالے سے ٹرمپ کی متنازعہ پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے امریکی ایوان نمائندگا میں اقلیتی دھڑے کی رہنما نینسی پیلوسی نے بھی مہاجرین کے حوالے سے خوف اور وحشت پھیلانے کی پالیسی اپنانے کے سبب صدر ٹرمپ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں