اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کے حملے مزید تیز ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے یمنی عوام تک امداد رسانی کا عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۳۰۹۳
تاریخ اشاعت: 23:43 - November 26, 2018

سعودی جارحیت نے یمنی عوام کی امداد کو مشکل بنادیامقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے پیر کو شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ کے علاقے الیمنہ پر شدید بمباری کی۔ اس وحشیانہ جارحیت میں ایک ہی گھرانے کے چھے افراد شہید ور تین دیگر زخمی ہو گئے۔

سعودی جنگی طیارے یمنی عوام کو مسلسل جارحیت کا نشانہ بنا کر انھیں خاک و خون میں غلطاں کر رہے ہیں۔

یمن کی قومی حکومت کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کی جارحیت میں آنے والی تیزی نے یمن میں بین الاقوامی تنظیموں کی سرگرمیوں کو مزید مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ طہ متوکل نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کے جاری حملوں کی بنا پر یمن میں بین الاقوامی تنظیمیں اپنے فرائض پرعمل نہیں کر پا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سعودی اتحاد بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے یمنی عوام کو نہایت بے دردی سے  اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بھی الحدیدہ پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت میں آنے والی شدت کو سعودی اتحاد کے جاری مجرمانہ عزائم کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی خلاف ورزیوں سے یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھیس کی قیام امن کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے بھی اتوار کے روز کہا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت میں آنے والی تیزی ان کے جارحانہ عزائم کو مزید آشکار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

چوالیس ماہ سے جاری سعودی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے سولہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

عالمی تنظیموں اور اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس وقت یمن کی ایک چوتھائی آبادی کو شدید ترین قحط کا سامنا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں